Home » mainpageblog » رپورٹ مساعی بابت سیلاب 2014ء

رپورٹ مساعی بابت سیلاب 2014ء

رپورٹ مساعی بابت سیلاب 2014ء

مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان

سیلاب کے دوران مجلس خدام الاحمدیہ کو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف مقامات پر خدمات کی توفیق ملی جس کی تفصیل درج ہے۔ سیلاب کی اطلاع ملتے ہی خدام الاحمدیہ نےفوری طور پر کام کا آغاز کر دیا۔ اس سلسلہ میں سیلاب سے متوقع متاثرہ اضلاع سے رابطہ کر کے ٹیمیں بنا دی گئیں ۔ اسی طرح ربوہ میں تمام متوقع متاثرہ حلقہ جات میں خدام کی ڈیوٹیاں شروع کر دی گئیں۔ اسی طرح دریائے چناب کے واٹر ہیڈ ورکس میں بھی پانی کا جائزہ لیا جاتا رہا۔ اسکے علاوہ تمام مہتممین کی ڈیوٹیاں مختلف جگہوں پر لگا دی گئیں۔شعبہ ریسکیو کے تحت درج ذیل اشیاء کا انتظام کر لیا گیاکشتیاں، ٹریکٹر ٹرالیاں ، لائف جیکٹس، ٹائرز، ٹیوبز، کسیاں،رسے،بانس،ٹارچیں، فرسٹ ایڈ باکس اور تھیلے۔
سیلاب سے ربوہ میں دارالیمن کے علاوہ 11 حلقہ جات متاثر ہوئے۔دارالیمن میں واقع بند کو مضبوط کرنے کے لئے خدام نے وقار عمل کیا اور ریت کے 1000تھیلے بند پر رکھےاسی طرح پتھروں کی 3 ٹرالیاں بند پر لگائی گئیں۔ بند پر ہر وقت 150 خدام ڈیوٹی پر موجود رہے۔
دارالعلوم جنوبی میں کل 2 بند بنائے گئے۔ 200ریت کے تھیلے استعمال ہوئے۔ ہر وقت 25 خدام ڈیوٹی پر موجود رہے۔ ان ایام میں اس حلقہ کے کل 26 گھروں کو خالی کروایا گیا اور169 افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔
دارالعلوم شرقی برکت میں مختلف جگہوں پر 5 بند بنائے گئے۔یہاں کل 400 تھیلے ریت کے استعمال کئے گئے۔ہر وقت 25 خدام ڈیوٹی پر رہے۔ کل 10 گھرانوں کو خالی کروایا گیااور 75 افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا ۔
دارالشکر کی گلیوںمیں 4 بند بنائے گئے۔ ان میں 150 تھیلے ریت کے لگائے گئے ۔ہر وقت 25 خدام ڈیوٹی پر رہے۔ان ایام میں اس حلقہ کے کل 8 گھروں کو خالی کروایا گیا اور71 افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔
طاہر آباد شرقی میں بیرونی اطراف میں مٹی کے 5 بند تعمیر کئےگئے۔ہر وقت 20 خدام ڈیوٹی پر موجود رہے۔ان ایام میں 58گھروں کو خالی کروایا گیااور 359 احباب کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ۔
نصیر آباد سلطانمیں خدام نے 3 بڑے بند تعمیر کئے ۔ جن پر 150تھیلےریت کےرکھے گئے۔ اور 14 ٹرالیاں مٹی کی ڈالی گئیں۔ ہر وقت 25 خدام حلقہ میں ڈیوٹی پر موجود رہے۔ ان ایام میں 32 گھروں کو خالی کروایا گیا اور 229 افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا۔
فیکٹری ایریا سلام میں گھروں کے آگے50 تھیلے ریت کے رکھ کر بند بنائے گئے۔ہر وقت 20 خدام ڈیوٹی پر موجود رہے۔ ان ایام میں 20گھروں کو خالی کروایا گیا اور 150 افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا۔
فیکٹری ایریا احمدمیں8 بند بنائے گئے۔ریت کے 50 تھیلے استعمال کئے گئے۔ ہر وقت 25 خدام حلقہ میں ڈیوٹی پر موجود رہے۔ خدام نے 12 گھروں کو خالی کروایا گیا اور 87 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا ۔
دارالنصرت میں کچھ گھروں کے آگے ریت کے 30تھیلے رکھ کر بند بنائے گئے۔ ہر وقت 15 خدام محلہ میں محفوظ جگہوں پر ڈیوٹی دیتے رہے۔خدام نے 40 گھروں کو خالی کروایا گیا اور 275 احباب کومحفوظ مقامات تک پہنچایا۔
دارالصدر غربی لطیف میں مختلف گھروں کے سامنے100 تھیلے ریت لگا کر بند بنائےگئے۔ ہر وقت 20خدام محلہ میں ڈیوٹی دیتے رہے۔خدام نے 6 گھروں کو خالی کروایا گیا اور30 احباب کومحفوظ مقامات تک پہنچایا۔
دارالفضل غربی طاہرمیں ایک بند بنایا گیا تھا ۔ہر وقت 25 خدام ڈیوٹی پر موجود رہے۔پہاڑی کے پیچھے موجود عاصم آباد بستی کے متاثرین کو رہائش کے لئے جگہ اور کھانافراہم کیا گیا۔خدام نے 1 گھر کو خالی کروایا اور 5 افراد کو محفوظ مقام تک پہنچایا۔احمد نگر میں8 بند مختلف جگہوں پر تعمیر کئے گئے۔ہر وقت 25 خدام ڈیوٹی پر موجود رہے۔خدام نے 25 گھروں کو خالی کروایا اور60افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا۔

 

شعبہ ریسکیو

شعبہ ریسکیو کے تحت کل 520 افراد کو کشتیوں کے ذریعہ محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا اورٹریکٹر ٹرالی کے ذریعہ کل 670 افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا۔ جن مقامات سے لوگوں کو ریسکیو کیا گیا وہ درج ذیل ہیں ۔ احمد نگر ، چک متھرومہ ، فیکٹری ایریا سلام ، دارالنصرت، طاہر آباد شرقی ، نصیر آباد سلطان ، دارالعلوم جنوبی احد ، دارالعلوم شرقی برکت ، دارالشکر جنوبی ، دارالصدر غربی لطیف ، یکے کی نزد ڈاور، کمالکے نزد کھچیاں ، عثمان والا ، کھڑکن ، احمد آباد سانگرہ ، کوٹ وساوا، ٹھٹھہ میاں لالہ ، ڈیرہ رام والا ، ڈیرہ مرزا اظہر احمد صاحب ، رحمت آباد سانگرہ ، کوٹ امیر شاہ ، ستی والا ، ڈیرہ احسان الہیٰ ، پٹھان کوٹ، ٹھٹھہ غلام والا، ڈیرہ منور احمد چوہان، یاریکی اور عمر کا ٹھٹھہ ۔ اسی طرح ریسکیو کے دوران کشتیوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعہ 10 مقامات پر 3900 افراد کو کھانا ریسکیو ٹیم کے ذریعہ بھجوایا گیا۔اسی طرح خدام نے محلہ جات سے کل 1492افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا۔

 

ریلیف کیمپس

مجلس خدام الاحمدیہ کے تحت 2 ریلیف کیمپ لگائے گئے ۔

دارالفضل ریلیف کیمپ

یہ کیمپ دارالفضل غربی فضل کی بیت الذکر سے ملحق پلاٹ میں لگایا گیا۔ ان ایام میں اس کیمپ میں کل 8500 افراد کو کھانا کھلایا گیا۔میڈیکل کیمپ میں ایلو پیتھک ابتدائی طبی امداد کے ساتھ ساتھ ہومیو پیتھک ادویات کا انتظام بھی تھا۔ کل885 مریضان کوطبی امداد مہیاکی گئی ۔یہ کیمپ مؤرخہ 8 ستمبر کو دوپہر کے کھانا سے شروع کیا گیا اور 11ستمبر دوپہر 12 بجے تک جاری رہا۔

طاہرآبادریلیف کیمپ

یہ کیمپ رشید رائس ملز کے شمال میں میں لگایا گیا۔ ان ایام میں اس کیمپ میں کل 11350 افراد کو کھانا کھلایا گیا۔میڈیکل کیمپ میں ایلو پیتھک ابتدائی طبی امداد کے ساتھ ساتھ ہومیو پیتھک ادویات کا انتظام بھی تھا۔ کل1516 مریضان طبی امداد مہیاکی گئی ۔ یہ کیمپ مؤرخہ 8 ستمبر کو دوپہر کے کھانا سے شروع کیا گیا اور 11ستمبر کو شام کے کھانے کے بعد بند کیا گیا۔

تقسیم کھانا

اس سلسلہ میں بند دارالیمن، دارالعلوم جنوبی ، دارالعلوم شرقی، دارالشکر ، فیکٹری ایریا احمد ، فیکٹری ایریا سلام ، دارالنصرت ، دارالصدرغربی لطیف، احمد نگر میں موجود متاثرین اور ڈیوٹی دینے والے خدام کو تین وقت کھانا بھجوایا جاتا رہا۔ کل 21 مختلف مقامات پر روزانہ 12000 کس کھانا بھجوایا جاتا رہا۔ اسی طرح 45 مختلف ڈیروں پر بھی کھانا بھجوایا جاتا رہا ۔ان ایام میں کل 39594 کس کھانا تقسیم ہوا۔

 

 

شعبہ سیکورٹی

سیلاب کے دنوں میں تمام سیکٹرز 24 گھنٹے کھلے رہے۔ دفتر حفاظت مرکز کے تحت 24 گھنٹے کارکنان 4 پرائیویٹ گاڑیوں پر راؤنڈ کرتے رہے۔ اسی طرح 15 موٹر سائیکل 24 گھنٹے راؤنڈ کرتے رہے۔

 

میڈیکل کیمپس

پاکستان کے باقی اضلاع جن میں سیلاب آیا وہاں خدام الاحمدیہ کے تحت میڈیکل کیمپس لگائے جا رہے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ جن میں اضلاع ابھی تک میڈیکل کیمپس لگ چک ہیں ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔

 

Table one

نوٹ : کوٹ بہادرمیں 35عدد راشن کے پیکٹس تقسیم کئے گئے۔

خلاصہ رپورٹ بابت سیلاب

Table-two

Author: Hassaan