Atfaal

شعبہ اطفال

شعبہ اطفال کے جملہ پروگراموں کا مقصد یہ ہے کہ احمدی بچوں کی جو جماعت کی ’’نرسری‘‘ کے طور پر ہیں اچھی طرح نگہداشت ہو سکے تا وہ جلد پروان چڑھیں اور سیرت و کردار کے سانچوں میں ڈھل کر اپنی خداداد استعدادوں کو جماعت کی ترقی کیلئے صرف کرنے کے قابل ہو سکیں۔ یہ غرض پوری کرنے کیلئے جملہ مجالس اطفال الاحمدیہ کے لئے الگ لائحہ عمل تجویز کیا گیا ہے۔ جملہ قائدین و عہدیداران اطفال یہ لائحہ عمل بار بار پڑھتے رہیں اور اپنے جملہ پروگرام اس کے مطابق تجویز کریں۔

تنظیم

      1- ہر قائد کیلئے ضروری ہے کہ وہ ناظم اطفال مقرر کرے اور جس جگہ بھی سات سال سے پندرہ سال کی عمر کے دو سے زیادہ احمدی بچے ہوں وہاں اطفال      الاحمدیہ قائم کی جائے۔ اسی طرح ہر زعامت (حلقہ میں) جہاں اطفال موجود ہوں منتظم اطفال مقرر کئے جائیں۔ ان کے علاوہ انصار یا خدام میں سے بڑی عمر کے موزوں دوست مربی اطفال کے طور پر مقرر کئے جائیں۔ مربیان اطفال نہایت مخلص، قابل اعتماد اور شفیق افراد میں سے لئے جائیں۔

2 – مجلس اطفال الاحمدیہ میں اطفال کے دو معیار ہیں  (i) معیار صغیر۔ سات سے بارہ سال ہے (ii) معیار کبیر: تیرہ سے پندرہ سال کے بچے اس میں شامل ہیں۔

3- مجلس اطفال الاحمدیہ کا پروگرام مندرجہ ذیل شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جن کی نگرانی کیلئے حسبِ ضرورت اطفال میں سے مندرجہ ذیل عہدیداران مقرر کئے جا سکتے ہیں۔

1- سیکرٹری عمومی  2 – سیکرٹری تجنید 3 – سیکرٹری تربیت 4  – سیکرٹری تعلیم  5  -سیکرٹری مال 6  – سیکرٹری وقف جدید7  – سیکرٹری وقارعمل8  – سیکرٹری صحت جسمانی 9  – سیکرٹری خدمت خلق 10  – سیکرٹری صنعت و تجارت 11  – سیکرٹری اشاعت 12  – سیکرٹری وقف نو

 

شعبہ اطفال کیلئے عمومی پروگرام

1- مجلس اطفال الاحمدیہ کی کارگزاری کی ماہانہ رپورٹ اطفال الاحمدیہ کے مقررہ رپورٹ فارم پر بھجوائی جائے تا کہ مرکز حالات سے واقف ہو کر بہتر رنگ میں مجالس کی رہنمائی کر سکے۔ ماہانہ رپورٹ اگلے ماہ کی پندرہ تاریخ تک مرکز میں ضرور بھجوا دینی چاہئے۔

2 -مربیان اطفال کی ماہانہ رپورٹ مرکز کی طرف سے مہیا کئے گئے رپورٹ فارم پر ارسال کی جائے۔

3- ماہانہ رپورٹوں کے علاوہ مجلس کے اہم کاموں کی رپورٹ علیحدہ بھی ارسال کی جائے تا کہ اسے رسالہ تشحیذالاذہان میں شائع کروانے میں سہولت رہے۔

4-  ہر ہفتہ یا پندرہ روز بعد اطفال کا اجلاس عام منعقد کیا جائے۔ یہ اجلاس زیادہ سے زیادہ مفید اور دلچسپ بنانے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ نیز کوشش کی جائے کہ ہر طفل کسی نہ کسی رنگ میں اجلاس کے پروگرام میں حصہ لے۔

5 -  تمام ناظمین اور منتظمین اطفال ہر ماہ کم از کم ایک اجلاس عاملہ ضرور منعقد کروائیں۔

6 -  اطفال الاحمدیہ کا چندہ مجلس 40/- روپے سالانہ ہے۔ جب کہ اجتماع کا چندہ 10/-روپے سالانہ ہے۔ ان چندہ جات کے علاوہ چندہ وقف جدید میں بھی ہر بچہ کو شامل کیا جائے۔ دفتر وقف جدید اطفال میں 15 سال کی عمر تک کے تمام بچے اور بچیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔

7  – یوم والدین کی تقریب ہر ششماہی میں ایک بار حلقہ وار یا مجلس وار ضرور منعقد کی جائے جس میں جماعت کے مرد، عورتیں اور بچے سبھی شامل ہوں اس دن والدین کو توجہ دلائی جائے کہ ایک تو وہ مجلس اطفال الاحمدیہ سے پورا تعاون کریں دوسرے وہ خود بھی اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کریں اور انہیں عام دینی مسائل، اخلاق حسنہ سے واقف کرائیں۔

8  – ہر سال ایک ہفتہ اطفال کا انعقاد کیا جائے۔ جسے ہر لحاظ سے کامیاب بنایا جائے۔

9 -  تمام اطفال کو پنجوقتہ نماز با جماعت پڑھنے کی طرف راغب کریں۔ نیز سب اطفال کو نماز سادہ ضرور آتی ہو۔ معیار کبیر کے اطفال کو نماز باترجمہ آنا بہت ضروری ہے۔

10 -  تمام اطفال کو قاعدہ یسرناالقرآن اور قرآن مجید ناظرہ سکھانے کا انتظام کیا جائے۔

11 – تمام اطفال کو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ بذریعہ ڈش براہ راست سنانے کا اہتمام کریں اور اس طرف خصوصی توجہ دیں۔ اسی طرح اطفال کو حضور کے پروگرام دکھانے کا بھی انتظام کریں نیز حضور کی خدمت میں دعائیہ خطوط لکھنے کی طرف توجہ دلائی جائے۔

12 –   اطفال کی تجنید کا از سر نو جائزہ لیں کوئی بھی طفل ایسا نہ ہو جس کا نام تجنید میں شامل ہونے سے رہ گیا ہو۔

13 -  واقفین نو اطفال کی طرف خصوصی توجہ دیں اس بات کی نگرانی کریں کہ وہ اطفال کی تنظیم کے فعال رکن ہوں۔

14 -  کوشش کریں کہ بچوں والے ہر احمدی گھرانے میں رسالہ تشحیذ ضرور آتا ہو۔

15  – اس بات کا خصوصی انتظام کریں کہ کوئی بھی طفل ایف اے یا ایف ایس سی سے پہلے اپنی تعلیم نہ چھوڑے۔

16 -  سال میں کم از کم ایک مرتبہ تمام اطفال کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

17  – ہر مجلس سے سالانہ مرکزی اجتماع پر اطفال کی نمائندگی کروائی جائے۔

18  – اطفال کے سالانہ سپورٹس مقابلہ جات علاقہ وار ہوں گے اس کے لئے ٹیمیں تیار کروائیں۔

نوٹ: مزید تفصیلات کیلئے مجلس اطفال الاحمدیہ کا لائحہ عمل پڑھیں۔