Brief History of MKA

مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام

مختصر تاریخ

 سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود (نور اللہ مرقدہ )نے اللہ تعالیٰ کی مشیت خاص کے ماتحت عالمگیر غلبۂ(دین حق )کے لیے جن عظیم الشان تحریکات کی بنیاد رکھی ان میں سے مستقبل کے لحاظ سے نہایت اہم، انقلاب آفرین دوررس نتائج کی حامل تحریک مجلس خدام الاحمدیہ ہے۔

مجلس کا قیام

31 جنوری1938ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ) کی خصوصی اجازت سے شیخ محبوب عالم خالد صاحب ایم اے کی دعوت پر قادیان کے دس نوجوان ان کے مکان متصل بورڈنگ مدرسہ احمدیہ پر جمع ہوئے اور ان نوجوانوں نے خدا تعالیٰ کے فضل اور نصرت پر بھروسہ رکھتے ہوئے تائید خلافت میں کوشاں رہنے اور اس کے خلاف اٹھنے والے ہر فتنہ کے خلاف سینہ سپر ہونے کا عزم کیا۔

ابتدائی ممبران مجلس خدام الاحمدیہ

ان نوجوانوں کے اسماء درج ذیل ہیں:
۱۔ مولوی قمر الدین صاحب۲۔حافظ بشیر احمد صاحب ۳۔مولانا ظہور حسین صاحب۴۔مولوی غلام احمد صاحب فرخ۵۔مولوی محمد صدیق صاحب ۶۔ سید احمد علی صاحب۷۔ حافظ قدرت اللہ صاحب ۸۔مولوی محمد یوسف صاحب۹۔مولوی محمد احمد صاحب جلیل۱۰۔ چوہدری خلیل احمد ناصر صاحب
ان احباب نے صدارت کے لیے مولوی قمر الدین صاحب اور سیکرٹری کے لیے شیخ محبوب عالم صاحب خالد کا انتخاب کیا۔

تنظیم کا نام اور کام

حضرت مصلح موعود (نوراللہ مرقدہ) نے 4 فروری 1938ء کو اس تنظیم کو’’مجلس خدام الاحمدیہ‘‘ کے نام سے موسوم فرمایا اور فروری، مارچ میں قادیان کے مختلف حلقوں میں اس کی شاخیں قائم کر دی گئیں۔
اس دوران مجلس کا کام یہ تھا کہ اس کے ارکان قرآن و حدیث، تاریخ، فقہ اور احمدیت و )دین حق) کے متعلق کتب دینیہ کا مطالعہ کرتے اور مخالف احمدیت و خلافت فتنوں کے جواب میں تحقیق و تدقیق کرتے اور اس کا دندان شکن جواب دیتے۔ ان دنوں شیخ عبد الرحمان مصری کا فتنہ بھی برپا تھا۔ چنانچہ مجلس نے یکے بعد دیگرے دو ٹریکٹ شیخ مصری صاحب کے اشتہاروں کے رد میں لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔پہلا ٹریکٹ ’’شیخ مصری صاحب کا صحیح طریق فیصلہ سے راہ فرار‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ دوسرے کا عنوان’’روحانی خلفاء کبھی معزول نہیں ہو سکتے‘‘ تھا۔

مقاصد اور مقصود میں وسعت

اپریل 1938ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ) نے مسلسل خطبات کے ذریعہ قادیان اور باہر کی جماعتوں میں اس مجلس کے قیام کا ارشاد فرمایا۔ قبل ازیں مجلس کا کام صرف علمی حد تک تھا۔ مگر اب اس کا پروگرام مندرجہ ذیل تجویز ہوا:
۱۔ اپنے ہاتھ سے روزانہ اجتماعی صورت میں آدھ گھنٹہ کام کرنا۔
۲۔درس و تدریس۔
۳۔تلقین پاپندی نماز۔
۴۔ بیوگان، معذوروں اور مریضوں کی خبر گیری۔
۵۔تکفین و تدفین اور تقاریب میں امداد وغیرہ۔
اس بنیادی پروگرام کے ساتھ ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی(نور اللہ مرقدہ)نے جماعت کے نوجوانوں کو انسداد آوارہ گردی اور فریضہ )دعوت الیٰ اللہ) کی ادائیگی کی طرف بھی متوجہ فرمایا۔

مستقل لائحہ عمل

ابتدائی مراحل سے گزرنے کے بعد بالآخر خدام الاحمدیہ کا مستقل لائحہ عمل حسب ذیل قرار پایا اور اس کے مطابق مجلس کا کام بھی مختلف شعبوں میں قائم کیا گیا۔
۱۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نوجوانوں کی تنظیم۔
۲۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نوجوانوں میں قومی روح اور ایثار پیدا کرنا ۔
۳۔(دین حق کی) تعلیم کی ترویج و اشاعت۔
۴۔نوجوانوں میں ہاتھ سے کام کرنے اور صاف ماحول میں رہنے کی عادت پیدا کرنا۔
۵۔ نوجوانوں میں مستقل مزاجی پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔
۶۔نوجوانوں کی ذہانت کو تیز کرنا۔
۷۔نوجوانوں کو قومی بوجھ اٹھانے کے قابل بنانے کے لیے ان کی ورزش جسمانی کا اہتمام۔
۸۔ نوجوانوں کو(دینی )اخلاق میں رنگین کرنا(مثلاً سچ، دیانت اور پابندیِ نماز وغیرہ) ۔
۹۔قوم کے بچوں کی اس رنگ میں تربیت اور نگرانی کہ ان کی آئندہ زندگیاں قوم کے لیے مفید ثابت ہو سکیں۔
۱۰۔نوجوانوں کو سلسلہ کے کاموں میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لینے کی ترغیب و تحریص۔
۱۱۔ نوجوانوں میں خدمت خلق کا جذبہ۔
۱۲۔ نوجوانان سلسلہ کی بہتری کے لیے حتی الوسع ہر مفید بات کو جامۂ عمل پہنانا وغیرہ ۔

مرکزی دفتر

قادیان میں مجلس خدام الاحمدیہ کا پہلا مرکزی دفتر چوہدری علی محمد صاحب کے مکان(متصل ریتی چھلہ) میں قائم کیا گیا تھا۔
اس کے بعد کچھ عرصہ کے لیے بڑے بازار میں حضرت سید محمد اسماعیل صاحب برادر حضرت ڈاکٹر غلام غوث صاحب کی دکانوں کے چوبارہ میں اور پھر قصر خلافت کی طرف جانے والی گلی کے کونہ میں واقع منور بلڈنگ کے چوبارہ میں بھی رہا اور بعد ازاں گیسٹ ہاؤس(دار الانوار) میں منتقل ہو گیا۔
شروع شروع میں دفتری ذمہ داریاں اکثر و بیشتر سید مختار احمد صاحب ہاشمی کے سپرد تھیں اور آپ انہیں نہایت محنت و عرق ریزی سے نبھاتے آرہے تھے مگر ایک سال کے بعد کام ا س قدر وسیع ہو گیا کہ مرکزی دفتر کے لیے 10 مارچ 1939ء کو ایک باتنخواہ محرر کی آسامی کے لیے قرار داد پاس کی گئی جس پر سید عبد الباسط صاحب18 مارچ 1939ء کو دفتر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ سے وابستہ ہوئے جو اٹھائیس برس تک مجلس کی اہم خدمات بجا لاتے رہے۔ آپ کے علاوہ31جولائی 1943ء کو ایک نئے کارکن ملک فضل دین صاحب کا اضافہ ہوا اور اس کے بعد تدریجاً دفتری کاموں اور کارکنان میں اضافہ ہونے لگا۔

دستور اساسی و قواعد و ضوابط

1939ء کے آغاز میں مجلس عاملہ مرکزیہ نے دو مہینے کی محنت سے اپنا دستور اساسی تیار کیا۔جسے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ) نے شرف منظوری عطا فرمایا۔ مجلس کا نظم وضبط انہی قواعد و ضوابط کی بنیادوں پر استوار کیا گیا۔ ان قواعد کے لحاظ سے ہر سال دسمبر کے پہلے ہفتہ میں مجالس عاملہ حلقہ ہائے قادیان اور مجالس عاملہ مرکزیہ کے اراکین صدر و جنرل سیکرٹری کے لیے دو دو ناموں کی تعیین کی جانے لگی اور ان اسماء کو مجلس کے سالانہ اجتماع میں تمام اراکین کے سامنے پیش کیا جاتا جو کثرت رائے سے صدر و جنرل سیکرٹری کا انتخاب کرتے۔ مجلس کا انتخاب (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں پیش کیا جاتا۔ حضور کی منظوری کے بعد صدر مجلس مختلف شعبہ جات کے لیے مہتممین خود نامزد کرتے جس سے مجلس عاملہ مرکزیہ کی تشکیل ہوتی۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی(نور اللہ مرقدہ) کی رہنمائی سے خدام الاحمدیہ کے کام کو ابتدائی طور پر مندرجہ ذیل شعبوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر شعبہ کے چلانے کے لیے ایک مہتمم مقرر ہوتا رہا۔ شعبہ وقار عمل، شعبہ خدمت خلق ،شعبہ)دعوت الی اللہ)، شعبہ تربیت و اصلاح، شعبہ تعلیم ،شعبہ اطفال، شعبہ صحت جسمانی، شعبہ تجنید، شعبہ مال، شعبہ اشاعت، شعبہ اعتماد۔بعد ازاں وقت کی مناسبت اور ضرورتِ حالات کے مطابق شعبہ جات میں کمی بیشی ہوتی رہی۔ اب شعبہ جات کی تعداد19 ہو چکی ہے۔
(رپورٹ مجلس خدام الاحمدیہ سال اول اور دوم
بحوالہ تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد اول صفحہ54)

مجلس کا بیج

آغاز کار ہی سے اراکین مجلس خدام الاحمدیہ کے لیے ایک امتیازی بیج بنوایا گیا جس کی زمین سیاہ تھی اور اس کے نقوش میں منارۃ المسیح تھاجس کے اوپر ایک جھنڈا لہرا رہا تھا جس پر کلمہ طیبہ مندرج تھا۔ساتھ ہی ہلال اور ستارے کے نشان ثبت تھے۔ ہلال کے ساتھ وَاسْتَبِقُوا الخَیْرَاتِ کے الفاظ نقش تھے بیج پر’’رکن خدام الاحمدیہ‘‘ بھی لکھا ہوا تھا۔

مجلس کی پہلی (راہ مولیٰ میں قربانی)

حافظ بشیر احمد صاحب جالندھری مجلس خدام الاحمدیہ کے بالکل ابتدائی دس ارکان میں سے تھے۔ آپ حلقہ وار مجالس کے قیام کے بعد مجلس خدام الاحمدیہ دارالرحمت کے زعیم مقرر ہوئے۔ آپ نے مجلس کے لیے انتھک محنت کی اور اس سرگرمی کے دوران2مئی1938ء کو خدام الاحمدیہ کا اجتماعی کام کرتے ہوئے دماغ کی رگ پھٹ جانے سے وفات پا گئے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نوراللہ مرقدہ) نے اس سانحہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’’حافظ بشیر احمدحافظِ قرآن،جامعہ سے فارغ التحصیل،وقف کنندہ خدام الاحمدیہ کے مخلص کارکن اور ان نوجوانوں میں سے تھے جن کے مستقبل کی طرف سے نہایت اچھی خوشبو آرہی تھی مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت کچھ اور تھی۔ اس نے خدام الاحمدیہ کے لیے ایک مثال اور نمونہ بننا تھاجس جماعت کے بنتے ہی اس کے کارکنوں کو(راہ مولیٰ میں قربانی) کا موقع مل جائے۔اس کے مستقبل کے شاندار ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا اور اس کے غیرت مند افراد اپنی روایات قائم رکھنے کے لیے ہمیشہ جدوجہد کرتے رہتے ہیں۔پس یہ موت تکلیف دہ تو ہے لیکن اس کے پیچھے خداتعالیٰ کی ایک حکمت کام کرتی نظر آرہی ہے۔‘‘
(رپورٹ مجلس خدام الاحمدیہ سال اول صفحہ38
بحوالہ تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ صفحہ40 تا 42)

مجلس خدام الاحمدیہ کا عہد نامہ

مجلس کے ابتدائی دور میں ہی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی(نور اللہ مرقدہ) نے احمدی نوجوانوں کے لیے ایک عہد تجویز فرمادیا تھا جس کے الفاظ یہ تھے۔
’’ تشہد‘‘(ایک مرتبہ)
’’میں اقرار کرتا ہوں کہ قومی اور ملی مفاد کی خاطر اپنی جان مال اور عزت کی قربانی کی پروا نہیں کروں گا۔‘‘(تین مرتبہ)
جون1924ء میں حضور نے عہد نامہ کے اردو الفاظ میں کچھ ترمیم فرمائی۔
(الفضل 7 جون1942ء صفحہ2 کالم 2)
پھر اس کے بعد حضور نے19 اکتوبر 1956ء کو عہد نامہ میں مزید ترمیم کی جس کی آخری صورت دج ذیل ہے۔
’’ تشہد‘‘ (تین مرتبہ)
’’میں اقرار کرتا ہوں کہ دینی،قومی اور ملی مفاد کی خاطر میں اپنی جان،مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لیے ہردم تیار رہوں گا۔اسی طرح خلافت احمدیہ کے قائم رکھنے کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہوں گا اور خلیفۂ وقت جو بھی معروف فیصلہ کریں گے۔ اس کی پابندی کرنی ضروری سمجھوں گا۔‘‘
(الفضل21 اکتوبر1956ء صفحہ 1 کالم2)

خدام الاحمدیہ سے متعلق حضور کا اہم سلسلہ خطبات

مجلس کا پہلا سالانہ اجتماع25 دسمبر1938ء کو تین بجے بعد دوپہر (بیت) نور میں منعقد ہوا۔ اس اجتماع میں حضور انور نے خطاب فرمایا اور خدام کو بیش قیمت نصائح فرمائیں۔
(الفضل 27دسمبر 1938ء)
اس کے علاوہ 1939ء کے نصف اول میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی(نور اللہ مرقدہ)نے خدام الاحمدیہ کی اہمیت و ضرورت اور خدام کے فرائض کے متعلق خطبات جمعہ کا ایک نہایت اہم اور خصوصی سلسلہ جاری فرمایا جو 3 فروری سے 17 مارچ تک جاری رہے۔ (الفضل 7 اپریل1939ء صفحہ3)

لوائے خدام الاحمدیہ کی تیاری اور پرچم کشائی

سلسلہ احمدیہ کے پچاس سالہ قیام اور خلافت ثانیہ پر پچیس سال مکمل ہونے پر 1939ء میں خلافت جوبلی منائی گئی۔اس تقریب سعید پر جہاں لوائے احمدیت بنانے اور اس کے بلند کرنے کا فیصلہ کیا گیاتھا وہاں مجلس خدام الاحمدیہ نے بھی فیصلہ کیا کہ لوائے احمدیت کے ساتھ ساتھ خدام الاحمدیہ کی تنظیم کے نشان کے طور پر لوائے خدام الاحمدیہ بھی تیار کیا جائے اور اسے بلند کیا جائے جس کے متعلق جملہ مساعی مجلس کے مخلص اور محنتی کارکن ملک عطاء الرحمن صاحب مجاہد تحریک جدید کی مرہون منت تھیں۔ یہ ایک لمبا مرحلہ تھاجس کی ہرمنزل دقت طلب تھی۔
لوائے خدام الاحمدیہ 18فٹ لمبا اور9فٹ چوڑاتھاجس کے ایک تہائی حصہ میں لوائے احمدیت کے نقوش تھے بقیہ حصہ تیرہ سیاہ وسفید دھاریوں پر مشتمل تھا۔لہرانے کی تقریب کے لیے56فٹ لمبا چیل کے تین درختوں کا ڈنڈا تیار کروایا گیا اور اس کو بھی سیاہ وسفید دھاریوں میں روغن کیا گیا۔لوائے خدام الاحمدیہ کے لیے جلسہ سالانہ کے سٹیج کی بائیں طرف لوائے احمدیت سے ذرا پیچھے ہٹ کر پلیٹ فارم تیار کروایاگیا۔
نوجوانان احمدیت کے محبوب مقدس رہنما حضرت سیدنا فضل عمر(نور اللہ مرقدہ) نے لوائے احمدیت کے بعد لوائے خدام الاحمدیہ کو ہوا میں لہرایا۔

حفاظت لوائے احمدیت

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ) نے لوائے احمدیت اور لوائے خدام الاحمدیہ کے لہرانے کے بعد یہ اعلان فرمایا کہ آج سے کل نماز جمعہ تک خدام الاحمدیہ اس کی حفاظت کرے اور ہر وقت کم ازکم بارہ خدام اس کے پہرہ پر رہیں۔چنانچہ فوری پہرہ کا انتظام کیا گیا۔

عَلَم انعامی کی تیاری

خلافت جوبلی کی مبارک تقریب پر مجلس خدام الاحمدیہ نے ایک انعامی عَلَم (جھنڈا) بھی تیار کروایا۔ یہ علم ہر سال اس مجلس کو دیا جاتا ہے جس کا کام سب مجالس سے ممتاز ہوتا ہے۔اس جھنڈا کی نسبت حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ اور ملک عطاء الرحمن صاحب مہتمم لوائے خدام الاحمدیہ نے اپنے دستخط سے مندرجہ ذیل ہدایات جاری کیں۔
۱۔ یہ جھنڈا (خلافت جوبلی عَلَم انعامی) ہر سال سب سے پیش پیش رہنے والی مجلس حاصل کرسکے گی۔
۲۔ جو مجلس یہ جھنڈا انعام کے طور پر حاصل کرے گی اس کے لیے لازمی ہوگا کہ 25 نومبر تک اس کو مرکز میں پہنچا دے۔
۳۔ جھنڈے کی حفاظت کی تمام تر ذمہ داری اس عرصہ کے لیے جب تک یہ جھنڈا اس کے پاس رہے گا اس مجلس پر ہوگی جو اس کو انعام کے طور پر حاصل کرے گی۔
۴۔ جو مجلس انعام کے طور پر اس جھنڈے کو حاصل کرے گی اس جھنڈے کو لے جانے اور واپس مرکز میں پہنچانے کے تمام اخراجات کی متحمل ہوگی۔
۵۔ علم انعامی پر اس کو حاصل کرنے والی مجلس کا نام چاندی کی ایک تختی پر لکھوا کر لگایا جائے گا جس کے اخراجات اس مجلس کے ذمہ ہوں گے۔
۶۔ جھنڈے کو کسی عمارت پر نہ لگایا جائے۔ اس طرح اس کے خراب ہونے کا احتمال ہے۔
۷۔ جب کبھی جھنڈے کو بلند کیا جائے سب خدام کا اس موقع پر کھڑے ہوکر عہد دہرانا ضروری ہے۔
۸۔ جھنڈے کو ہر تین ماہ کے بعد نہایت احتیاط کے ساتھ کسی خادم سے دھلوا کر دھوپ میں سکھایا جائے۔ (تاریخ احمدیت جلد 7 جدید صفحہ 574 ،578)

خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ کی لازمی تجنید

26 جولائی 1940ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ) نے ارشاد فرمایا کہ ’’آج سے قادیان میں خدام الاحمدیہ کا کام طوعی نہیں بلکہ جبری (یعنی لازمی۔ ناقل) ہوگا۔ ہر وہ احمدی جس کی پندرہ سے چالیس سال تک عمر ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پندرہ دن کے اندر اندر خدام الاحمدیہ میں اپنا نام لکھا دے۔‘‘ نیز اعلان فرمایا کہ ’’ایک مہینہ کے اندر اندر خدام الاحمدیہ آٹھ سے پندرہ برس کی عمر تک کے بچوں کو منظم کریں اور اطفال الاحمدیہ کے نام سے ان کی جماعت بنائی جائے۔‘‘حضور کی ہدایت تھی کہ خدام کی تجنید کے لیے احباب سے زبردستی فارم پر نہ کروائے جائیں بلکہ صرف اطلاع پہنچانے تک ہی اکتفاء کیا جائے۔ اس ارشاد کی تعمیل میں مجلس مرکزیہ کے نمائندے ہر محلہ کی(بیت) میں ایک معین وقت میں )جس کا اعلان نمازوں کے وقت میں کردیا جاتا( حاضر رہتے اور اگرچہ حضور کی طرف سے ایک فوری بھرتی کے لیے پندرہ دن کی میعاد مقرر تھی لیکن ایک قلیل تعداد کے سوا بقیہ سب نوجوان ابتدائی دو تین روز ہی میں مجلس کے رکن بن گئے۔
علاوہ ازیں مجلس نے اطفال الاحمدیہ کی تنظیم کے لیے قادیان کے804 بچوں کے75 گروپ بنائے۔ ان پر مانیٹر مقرر کئے اور انہیں مربیوں کے سپرد کیا۔ مجلس نے اطفال کے متعلق ذیلی قواعد کا تفصیلی ڈھانچہ بھی تیار کیا اور بچوں کے لیے تربیتی نصاب بھی۔ نیز خدام کی طرح اطفال الاحمدیہ کا بیج یعنی امتیازی نشان بھی تیار کرایا۔ جس پر نقوش تو وہی تھے جو خدام الاحمدیہ کے بیج کے تھے مگر یہ ذرا چھوٹا اور بیضوی شکل کا بنایا گیا تھا اور اس پر ’’امیدوار رکن مجلس خدام الاحمدیہ‘‘ کے الفاظ کندہ تھے۔
(تاریخ احمدیت جلد 7 جدید صفحہ578 ،579)

دفتر مجلس مرکزیہ کی بنیاد

10 اکتوبر1942ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی(نور اللہ مرقدہ)نے بعد نماز عصر دارالانوار میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے دفتر کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا۔ عمارت کے لیے حضرت نواب محمد عبداللہ خان صاحب نے آٹھ کنال کا قطعہ زمین بطور عطیہ دیا۔ یہ عمارت مکمل ہوگئی تو مجلس کا دفتر جو گیسٹ ہاؤس میں کھلا ہوا تھا اس میں منتقل کر دیا گیا جو قادیان سے ہجرت(1947ء) تک قائم رہا۔

’’الطارق‘‘ کا اجراء

جنوری 1945ء سے مجلس خدام الاحمدیہ کی طرف سے ’’الطارق‘‘ کے نام سے ٹریکٹوں کا ایک سلسلہ جاری کیا گیا جس کی حیثیت مجلس کے گزٹ کی سی تھی جس میں صدر مجلس اور مہتممین مرکزیہ کی طرف سے ضروری ہدایات و اطلاعات شائع ہوتی تھیں۔ یہ سلسلہ پانچ نمبروں کی اشاعت کے بعد بند کر دیا گیا۔
(تاریخ احمدیت جلد7 جدید صفحہ 584،585)

پہلی دینیات کلاس

1945ء کے اوائل میں مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے شعبہ تعلیم کے زیر اہتمام میڑک کا امتحان دینے والے طلباء کے لیے قادیان میں دینیات کلاس کھولی گئی جو20 اپریل 1945ء سے لے کر 10 مئی1945ء تک جاری رہی۔
اس پہلی کلاس کے بعد خدام الاحمدیہ مرکزیہ نے مستقل طور پر تعلیم و تربیت کا یہ اہم طریق رائج کر دیا جو اب تک بدستور جاری ہے۔

پہلی تعلیم القرآن کلاس

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ)کے ارشادات پر دینیات کلاس کے بعد مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ اور نظارت تعلیم و تربیت کے اشتراک سے1945ء میں پہلی تعلیم القرآن کلاس بھی شروع کی گئی جو25 اگست سے25 ستمبر تک جاری رہی۔ حضور کی خدمت میں جب تعلیم القرآن کلاس کے انتظامات اور روزانہ اسباق کی رپورٹ پیش ہوئی تو حضور نے اپنے قلم مبارک سے تحریر فرمایا کہ:
’’جزاکم اللہ تعالیٰ یہ انتظام بہت مناسب ہے اور ہر سال ہونا چاہئے اور بڑھاتے جانا چاہیے۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 7 جدید صفحہ 585 تا 587)

نئے ہفت سالہ دور کا پروگرام

1945ء میں چونکہ مجلس خدام الاحمدیہ اپنی زندگی کے سات سال مکمل کرچکی تھی اس لیے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ)نے اس سال کے سالانہ اجتماع پر اس کے گذشتہ ہفت سالہ دور کا جائزہ لینے کے بعد آئندہ کے سات سالوں کے لیے ایک جامع و مانع اور تفصیلی پروگرام پیش فرمایا۔
(تفصیل کے لیے دیکھیں:تاریخ احمدیت جلد 7 جدید صفحہ 587 تا591)

ایک ولولہ انگیز پیغام

تقسیم ہند و پاک کے بعد جب لوگ بکھرے ہوئے تھے اور ہجرت کے بعد اس تنظیم کی صورتحال بھی تسلی بخش نہ تھی، حضرت مصلح موعود (نورہ اللہ مرقدہ) کی طرف سے ایک ولولہ انگیز زندگی بخش، پرکشش پیغام بعنوان:

’’مجھے آپ کی تلاش ہے‘‘

مئی 1948ء کے آخر پر منصہ شہود پر (یعنی سامنے)آیا۔ یہ پیغام دراصل احمدیت کی تنظیمی، اخلاقی اور روحانی تعلیمات کا نہایت لطیف خلاصہ اور نچوڑ ہے جس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ :
’’۱۔ کیا آپ محنت کرنا جانتے ہیں؟ اتنی محنت کہ تیرہ چودہ گھنٹے دن میں کام کرسکیں۔
۲۔ کیا آپ سچ بولنا جانتے ہیں؟ اتنا کہ کسی صورت میں آپ جھوٹ نہ بول سکیں؟ آپ کے سامنے آپ کا گہرا دوست اور عزیز بھی جھوٹ نہ بول سکے، آپ کے سامنے کوئی اپنے جھوٹ کا بہادرانہ قصہ سنائے تو آپ اس پر اظہارِ نفرت کئے بغیرنہ رہ سکیں۔
۳۔ کیا آپ جھوٹی عزت کے جذبات سے پاک ہیں؟ گلیوں میں جھاڑو دے سکتے ہیں؟ بوجھ اُٹھا کر گلیوں میں پھر سکتے ہیں؟ بلند آواز سے ہر قسم کے اعلان بازاروں میں کرسکتے ہیں؟ سارا سارا دن پھر سکتے ہیں اور ساری ساری رات جاگ سکتے ہیں؟
۴۔ کیا آپ اعتکاف کرسکتے ہیں؟ جس کے معنے ہوتے ہیں (الف) ایک جگہ دنوں بیٹھ رہنا (ب) گھنٹوں بیٹھے وظیفہ کرتے رہنا (ج) گھنٹوں اور دنوں کسی انسان سے بات نہ کرنا۔
۵۔ کیا آپ سفر کرسکتے ہیں؟ اکیلے اپنا بوجھ اُٹھا کر بغیر اس کے کہ آپ کی جیب میں کوئی پیسہ ہو۔ دشمنوں اور مخالفوں میں ، ناواقفوں اور ناآشناؤں میں؟ دنوں ، ہفتوں اور مہینوں۔
۶۔ کیا آپ اس بات کے قائل ہیں کہ بعض آدمی ہر شکست سے بالا ہوتاہے؟ وہ شکست کا نام سننا پسند نہیں کرتا۔ وہ پہاڑوں کو کاٹنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ وہ دریاؤں کو کھینچ لانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اس قربانی کے لیے تیار ہوسکتے ہیں؟
۷۔ کیا آپ میں ہمت ہے کہ سب دنیا کہے نہیں اور آپ کہیں ہاں؟ آپ کے چاروں طرف لوگ ہنسیں اور آپ اپنی سنجیدگی قائم رکھیں۔ لوگ آپ کے پیچھے دوڑیں اور کہیں کہ ٹھہر تو جا ہم تجھے ماریں گے اور آپ کا قدم بجائے دوڑنے کے ٹھہر جائے اور آپ اس کی طرف سر جھکا کر کہیں کہ لو مارلو۔ آپ کسی کی نہ مانیں کیونکہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں مگر آپ سب سے منوالیں کیونکہ آپ سچے ہیں۔
۸۔ آپ یہ نہ کہتے ہوں کہ میں نے محنت کی مگر خداتعالیٰ نے مجھے ناکام کردیا۔ بلکہ ہر ناکامی کو آپ اپنا قصور سمجھتے ہوں۔ آپ یقین رکھتے ہوں کہ جومحنت کرتا ہے کامیاب ہوتا ہے اور جو کامیاب نہیں ہوتا اُس نے محنت ہرگز نہیں کی۔
اگر آپ ایسے ہیں تو آپ اچھا (مربی) اور اچھا تاجر ہونے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ مگر آپ ہیں کہاں، خدا کے ایک بندہ کو آپ کی دیر سے تلاش ہے۔ اے احمدی نوجوان ڈھونڈ اس شخص کو اپنے صوبہ میں، اپنے شہر میں، اپنے محلہ میں، اپنے گھر میں، اپنے دل میں کہ(دین حق) کا درخت مرجھا رہا ہے۔ اسی کے خون سے وہ دوبارہ سرسبز ہوگا۔
مرزا محمود احمد‘‘
(تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد دوم صفحہ10،11)

دفتر خدام الاحمدیہ کی پاکستان منتقلی

برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد قریباً 2 سال تک دفتر قادیان میں ہی رہا پھرحالات کے مخدوش ہونے پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ مجلس خدام الاحمدیہ کا مرکزی دفتر بھی پاکستان منتقل کر دیا جائے۔دفتر کا اہم اور ضروری ریکارڈ لاہور پہنچانے کی ذمہ داری دفتر کے کارکن ملک فضل دین صاحب کے سپرد کی گئی جو انہوں نے نہایت احسن طریق پر نبھائی۔
مئی1949ء کے آخر میں دفتر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ نمبر4 میکلوڈ روڈ لاہورسے تبدیل ہو کر جودھا مل بلڈنگ لاہور میں منتقل ہو گیا۔
نیز ربوہ کے قیام کے ساتھ ہی مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے صدر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب نے ربوہ میں دفتر تعمیر کرنے کی پر اثر اپیل روزنامہ ’’الفضل‘‘ میں چھپوائی جس میں کم از کم پچاس ہزار روپے کی رقم جمع کرنے کی تحریک کی۔ الفضل7اگست 1949ء سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کا دفتر لاہور سے ربوہ منتقل ہو چکا تھاجس کا با ضابطہ اعلان معتمد صاحب مرکزیہ نے 23 اگست کے الفضل میں کرتے ہوئے مجالس کو ہدایت کی کہ جملہ خط و کتابت دفترخدام الاحمدیہ ربوہ تحصیل چنیوٹ ضلع جھنگ کے پتہ پر کی جائے۔
(تاریخ مجلس خدام ااحمدیہ جلد دوم صفحہ43تا51)

پاکستان میں تنظیم سازی

قادیان جیسے مرکز سے جدائی کے بعد بہت سے افراد جماعت کو ہندوستان سے ہجرت کر کے نئی جگہوں پر قیام کرنا پڑا۔اس طرح جماعتوں اور مجالس کی پرانی ترتیب برقرار نہ رہ سکی تھی۔مجلس مرکزیہ نے ملک کے گوشہ گوشہ میں بکھرے ہوئے خدام کی تجنید کا ازسرِنو آغاز کیا۔
( تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد دوم صفحہ3تا 6)

پاکستان میں اولین مجلس شوریٰ

13جون1948ء کورتن باغ لاہور میں مجلس خدام الاحمدیہ کی شوریٰ کا اجلاس ہوا۔اس اجلاس میں تمام مقامات سے جہاں مجالس قائم ہیں ایک ایک نمائندہ شامل ہوا۔نمائندوں کی کل تعداد 109 تھی۔ ان میں مرکزی عہدیداران اور نمائندے بھی شامل ہیں۔ (تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد دوم صفحہ13تا15)

1948ء تک کی نمایاں مجالس خدام الاحمدیہ

1948ء تک ہندوستان اور پاکستان میں بیسیوں مجالس قائم ہو چکی تھیں۔ اس وقت کی پاکستان میں خدمت کے لحاظ سے نمایاں مجالس کے نام درج ذیل ہیں:۔
لاہور، گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، لائل پور، شیخوپورہ، جہلم، راولپنڈی، منٹگمری، کوئٹہ، کراچی، کنری، اوکاڑہ، گوجرہ، احمد نگر، محمود آباد (جہلم)
اس کے علاوہ بھارت اور دیگر کئی بیرونی ممالک میں بھی یہ مجالس نمایاں خدمت کی توفیق پارہی تھیں۔
(تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد دوم صفحہ 25تا 30)

ربوہ کی سرزمین پر پہلا سالانہ اجتماع

مجلس کا نواں سالانہ اجتماع جو معمول کے مطابق نومبر 1947ء میں ہونا تھا۔ دو سال کے وقفہ کے بعد30 ،31 اکتوبر و یکم نومبر 1949 ء کو ربوہ کی سر زمین پر منعقد ہوا۔
یہ پاکستان اور ربوہ کی سر زمین پر اولین سالانہ اجتماع تھا جو ریلوے لائن کے پار دو چھوٹی پہاڑیوں کے دامن میں تجویز کیا گیا۔اس اجتماع کی خاص بات یہ ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (نور اللہ مرقدہ)نے اس موقع پر تنظیمی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’آئندہ مجلس خدام الاحمدیہ کا میں خود صدر ہوں گا اور جس طرح شوریٰ کی مجلس میری صدارت میں ہوتی ہے اور جماعت کے نمائندگان میری موجودگی میں کام کرتے ہیں اسی طرح خدام الاحمدیہ کے اجلاس بھی آئندہ میری صدارت میں ہواکریں گے سوائے اس کے کہ خاص موقعوں پر میں مجبور ہوں کہ کسی اور کو مقرر کر دوں۔‘‘
(تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد دوم صفحہ53تا 60)

مرکزی بجٹ کی باقاعدہ تیاری سال51۔1950ء

امسال مجلس کے مالی نظام میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ اس کے اخراجات آمد و خرچ کا باقاعدہ بجٹ تیار ہونے لگا۔ اور تیار شدہ بجٹ مجلس خدام الاحمدیہ کی شوریٰ میں پیش ہونے لگا۔
(تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد دوم صفحہ105، 106)

’’الطارق‘‘ کی اشاعت کے لیے کوشش اور ’’خالد ‘‘ کا اجراء

مجلس شوریٰ سال1950-51ء کے فیصلہ کے مطابق خدام الاحمدیہ کے سہ ماہی رسالہ ’’الطارق‘‘ کی اشاعت کے لیے کوشش شروع کر دی گئی، اس نام سے رسالہ کا ڈیکلیریشن نہ ملا تو یہ کوشش رسالہ ’’خالد‘‘ کی صورت میں بار آور ہوئی۔ (تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد دوم صفحہ143)ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کا ڈیکلیریشن 2 اکتوبر1952ء کو منظور ہوا اور خالد کا پہلا شمارہ اکتوبر1952ء کا چھپا۔ مکرم غلام باری سیف صاحب اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔
(تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد دوم صفحہ199تا200)

نائب صدر خدام الاحمدیہ برائے مشرقی پاکستان و دیگر صوبہ جات

سال 1952-53ء میں مشرقی پاکستان میں احمدی نوجوانوں کی تنظیم اور ہر جماعت میں مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام کی غرض سے صوبہ جاتی نظام کے ماتحت نائب صدر خدام الاحمدیہ کے لیے مکرم ڈاکٹر عبدالصمد خان صاحب کے نام کی سفارش مکرم امیر صاحب جماعت ہائے مشرقی پاکستان نے کی۔دفتر مرکزیہ نے اسے حضور انور کی خدمت میں پیش کیا۔حضور نے اس سفارش کو منظور فرما لیا۔اس کے علاوہ ایک وقت میں دیگر صوبہ جات میں بھی نائب صدور کا تقرر کیا جاتا رہا ہے۔
(روزنامہ الفضل15مارچ1952ء صفحہ2)

تعمیر دفتر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ

6 فروری 1952ء کو حضرت مصلح موعود (نور اللہ مرقدہ)نے خدام الاحمدیہ کے مرکزی دفتر کی بنیاد رکھی اور 15 اپریل1952ء کوآپ نے ہی اس دفتر کا افتتاح فرمایا۔

ربوہ میں قیادت کا نظام

مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ اس وقت تک زعامتوں میں منقسم تھی۔ ہر بلاک میں علیحدہ زعامت قائم تھی اور مجلس مرکزیہ براہ راست ان کی نگرانی کر رہی تھی۔ خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے نئے دفتر میں افتتاحی دعا سے قبل سیدنا حضرت مصلح موعود (نور اللہ مرقدہ) نے ہدایت فرمائی کہ ربوہ میں علیحدہ قیادت قائم کی جائے جس پر28 جون1952ء کو انتخابی جلسہ ہوا جس میں کثرت رائے سے مکرم سید میر محمود احمد صاحب کو قائد خدام الاحمدیہ ربوہ منتخب کیا گیا اور حضور نے اس انتخاب کی منظوری عنایت فرمائی۔
(ماہنامہ خالد جولائی 1953ء صفحہ34)

نئی مجالس سال 1952-53ء

پارٹیشن کے بعد مجلس خدام الاحمدیہ نے جلد جلد نہایت سرعت کے ساتھ اپنی تنظیم کو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ سالانہ بیسیوں مقامات پر مجالس قائم کرنا شروع کر دیں جس نے نوجوانوں کے اندر خدمت دین کی نہایت زبردست لگن لگا دی۔ مثلاً 1952-53ء میں ہی55 نئے مقامات پر مجالس قائم ہوگئیں۔
(ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ اگست 1953ء صفحہ 30)

خدام الاحمدیہ کے سال کی تواریخ میں تبدیلی

مجلس خدا م الاحمدیہ مرکزیہ کا سال ابتداء میں 4فروری 1945ء سے اگلے سال 3 فروری تک ہوتا تھا لیکن مجلس شوریٰ خدام الاحمدیہ 1953ء میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سے سال فروری کی بجائے یکم نومبر سے31 اکتوبر تک ہوا کرے گا۔ چنانچہ 1954ء سے اس کے مطابق تبدیلی کر کے سال کا آغاز یکم نومبر سے کر دیا گیا۔ جس وجہ سے1954ء کا سال 4فروری سے31اکتوبر تک 9 ماہ 25دن کا ہوا تھا۔
(ماہنامہ خالد نومبر1965ء صفحہ3)

ایک تاریخی دور کا اختتام

7 نومبر 1954ء کو حضرت مصلح موعود (نوراللہ مرقدہ) نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو مجلس انصار اللہ کا نائب صدر مقرر فرمایا اور مجلس خدام الاحمدیہ سے آپ کو سبکدوش فرما دیا۔ اسی روز آپ کے اعزاز میں مجلس خدام الاحمدیہ کی طرف سے الوداعی ایڈریس پیش کیا گیااور 2 دسمبر 1954ء کو مجلس کی طرف سے آپ کے اعزاز میں الوداعی پارٹی بھی دی گئی جس میں ازراہ شفقت حضور نے بھی شرکت فرمائی۔ اس تقریب میں مجلس مرکزیہ نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمات کاجو انہوں نے مجلس کی تعمیرواستحکام کے لیے کیں بطور خاص تذکرہ کیا۔ آپ نے تقریباً پندرہ سال تک مجلس کی خدمت کی توفیق پائی۔
(تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد دوم صفحہ363تا365)

شعبہ مجالس بیرون کا قیام

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ دنیا بھر میں پھیلتی جارہی تھی اور ضرورت تھی کہ دنیا بھر کے احمدی نوجوانوں سے تنظیم کا بھرپور روحانی ، اخلاقی اور تنظیمی تعلق قائم ہو اور ان کی تربیت کی جاسکے چنانچہ سال 1954-55ء میں حضرت مصلح موعود (نور اللہ مرقدہ) کی طرف سے ہدایت موصول ہوئی کہ مرکز میں ایک ایسا شعبہ قائم کیا جائے جو بیرون پاکستان کی مجالس سے رابطہ رکھے اور ان کو بیدار رکھنے کے لیے ان سے خط وکتابت کرے۔ چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں جون 1955ء میں ایک مہتمم مجالس بیرون کااضافہ کیا گیا۔ پہلے مہتمم مکرم شیخ مبارک احمد صاحب بی۔اے مقرر ہوئے اور 1989ء تک یہ شعبہ قائم رہا۔ اس شعبہ کے آخری مہتمم حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب (خلیفۃ المسیح الخامس )تھے۔ آپ1985ء سے 1989ء چار سال تک اس اہم عہدہ پر فائز رہے۔
(تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد دوم صفحہ377)

سال1989ء میں ایک اہم فیصلہ

جماعت احمدیہ کی روز بروز ترقی اور کاموں میں نہایت درجہ وسعت اور پھیلاؤ آجانے پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کے تنظیمی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے آئندہ سے ہر ملک میں الگ سے خدام الاحمدیہ کی صدارت کا نظام قائم کرنے کا ارشاد فرمایا۔اور اس طرح شعبہ مجالس بیرون ختم کر دیا گیا۔
(الفضل 27جون2003صفحہ2)

مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام دنیا بھر میں

جوں جوں جماعت احمدیہ دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیلتی چلی گئی جماعتی نظام بھی ان میں قائم اور مستحکم ہوتا چلا گیا اور اسی طرح مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام کے بعد یہ تنظیم بھی ان ممالک میں قائم ہوتی چلی گئی۔ خلافت ثانیہ کے مبارک دورمیں دنیا کے 48سے زائد ممالک میں احمدیت کا نفوذ اور قیام عمل میں آ چکا تھا۔
(سلسلہ احمدیہ جلد دوم ،تحریک جدید کے بیرونی مشن)
اس کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب (خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ) کا بابرکت عہد شروع ہوا۔ حضور انور اور خدام الاحمدیہ کا ساتھ ایک لمبے عرصہ پر محیط تھا۔ آپ1939ء میں صدر مجلس منتخب ہوئے اور 1949ء تک صدر کے طور پر تنظیم کی قیادت فرماتے رہے ۔1949ء میں خود حضرت مصلح موعود (نور اللہ مرقدہ) نے صدارت سنبھال لی اور اس دوران حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب1949ء سے1954ء تک بطور نائب صدر اوّل کام کرتے رہے۔
1965ء میںآپ مسند خلافت پر فائز ہوئے اور یہ دورجون1982ء تک رہا۔ اس دوران دنیا کے مزید 32ممالک میں احمدیت کا پیغام پہنچا۔ اس طرح 1982ء تک دنیا کے80 ممالک میں جماعت کا قیام ہوا اور ساتھ ہی بہت سے ممالک میں تنظیم کا آغاز ہوا یا وہ پہلے سے مضبوط ہوگئی اور اس طرح جہاں جہاں جماعت کا قیام ہوتا چلا گیا،وہاں وہاں بتدریج مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام بھی ہوتا چلا گیا اور جن ممالک میں مرکزی مشنریز تعینات تھے وہ بطور نائب صدر خدام الاحمدیہ بھی کام کرتے تھے اور متعلقہ ملک کی تنظیم کی قیادت کا فریضہ مرکز سلسلہ ربوہ کی زیرِ نگرانی و ہدایات سر انجام دیتے تھے۔
حضرت صاحبزادہ مرزاطاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کو بھی ایک لمبا عرصہ خدام الاحمدیہ میں کام کا موقع ملا اور 1966ء سے1969ء تک خدام الاحمدیہ کی صدارت پر بھی متمکن رہے۔ جون 1982ء میں آپ کے منصبِ خلافت پر فائز ہونے کے بعد خدام الاحمدیہ کی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ بطور خاص حضور انور کے پاکستان سے ہجرت فرما جانے کے بعد جماعت احمدیہ کی ترقیات کا ایک نہایت غیر معمولی اور لامتناہی سلسلہ شروع ہوا اور جماعت کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں مجالس خدام الاحمدیہ بھی قائم ہوتی چلی گئیں۔ اسی دوران1989ء میں خدام الاحمدیہ کا تنظیمی نظام حضور انور نے تبدیل فرمایا اور ہر ملک میں صدارت کا الگ نظام جاری کرنے کا ارشاد فرمایاجو مجلس خدام الاحمدیہ کی عالمگیر وسعت میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ خلافت رابعہ کے مبارک دور کا اختتام اپریل 2003ء کو ہوا۔2002 ء تک دنیا کے175 ممالک میں جماعت کا قیام ہو چکا تھا۔
حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بابرکت دورِ خلافت کا آغاز اپریل 2003ء میں ہوا۔ آپ مجلس خدام الاحمدیہ میں بطور مہتمم صحت جسمانی، مہتمم تجنید، مہتمم مجالس بیرون اور نائب صدر کے عہدوں پر فائز رہ کر خدام کی قیادت فرماتے رہے ہیں۔
حضور انور کے بابرکت اور تاریخی دورمیں جماعت احمدیہ کی وسعت و ترقی وہم و گمان کی حدود سے آگے نکل رہی ہے الحمد للہ۔ حضور انور شب و روز جماعت کی تربیت و تنظیم کے لیے بے انتہا مصروف ہیں اور انہی مصروفیات میں یہ بات بڑی نمایاں نظر آتی ہے کہ حضور انور جہاں اور جس ملک میں جاتے ہیں وہاں جماعتی نظام کے علاوہ ذیلی تنظیموں سے بھی اکثر ملاقات فرماتے ہیں، ان کی میٹنگز لیتے ہیں۔ تنظیموں کی اصل روح ، عہدیداران کے فرائض اور ذمہ داریاں بالتفصیل بیان فرماتے ہیں۔ حضور انور کی یہ شفقت و رہنمائی دنیا بھر کی مجالس خدام الاحمدیہ کے لیے بہت بڑی نعمت اور برکت ہے جو ہر آنے والے دن میں ان کو مضبوط سے مضبوط تر کرتی چلی جارہی ہے۔
اب تک204ممالک میں احمدیت کی شاخیں قائم ہو چکی ہیں اور ان جگہوں پر بتدریج خدام الاحمدیہ کا قیا م بھی ہوتا چلا جارہا ہے۔ الحمد للہ
الحمد للہ کہ مجلس خدام الاحمدیہ کو خلافت احمدیہ کا ادنیٰ خادم ہوتے ہوئے یہ مقام حاصل ہے کہ مجلس خدام الاحمدیہ پر اب کبھی سورج غروب نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ خدام الاحمدیہ کو ہمیشہ خلافت احمدیہ کی خدمت اور حفاظت کے میدان میں ہراول دستہ کے طور پر کام کی توفیق عطا فرماتا چلا جائے اور جو عہد خدام الاحمدیہ کے ممبران اپنے ہر اجلاس میں دہراتے ہیں اس پر ہمیشہ وفا کے ساتھ قائم رہنے کی توفیق ملتی رہے۔ آمین