Darul Sanaat

دارالصناعۃ

img3

احمدی نوجوانوں میں صنعت وحرفت کا شوق پیدا کرنے کے لیے اس ادارہ کی بنیاد حضرت مصلح موعود( نور اللہ مرقدہ) کے دور میں قادیان میں رکھی گئی۔ 2مارچ 1935ء کو حضور نے اس ادارہ کا افتتاح فرمایا۔ اس موقع پر حضور نے رَندہ لے کر خود اپنے دست مبارک سے لکڑی صاف کی اور آری سے اس کے دو ٹکڑے کرکے عملاً بتادیا کہ اپنے ہاتھوں سے کوئی کام کرنا ذلت نہیں بلکہ عزت کا موجب ہے ۔
دارالصناعۃ میں طلباء کی تعلیم و تربیت اور رہائش کا انتظام تحریک جدید کے ذمہ تھا۔ ابتدائی مسائل اور عقائد کی زبانی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ اس کے تین شعبے (نجاری، آہنگری اور چرمی) تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نوراللہ مرقدہ نے بابو اکبر علی صاحب کو (جو محکمہ ریلوے انسپکٹر آف ورکس کی آسامی سے ریٹائر ہو کر آئے تھے) آنریری طور پر صنعتی کاموں کا نگران مقرر فرمایا۔ یہ صنعتی ادارہ 1947ء تک بڑی کامیابی سے چلتا رہا۔

دارالصناعۃ ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ

اب ایک لمبے عرصہ سے ربوہ میں بے روز گار خدام کو ہنر سکھانے کے لیے کسی مستند ادارے کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی جس کی سفارشات مرکزی شوریٰ نے بھی حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں پیش کی تھیں۔ اس پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز (جب آپ ناظر اعلیٰ تھے ) کی خواہش پر مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کے زیراہتمام ایک ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا گیاجس کی منظوری حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی اور از راہِ شفقت اس ادارے کا نام ’’دارالصناعۃ ‘‘ رکھا ۔
فوری ضرورت کے تحت 5فروری 2004ء کو ایک عمارت کرایہ پر حاصل کرکے کام کا آغاز کیا گیا۔جون 2008ء میں اداراہ دارالعلوم وسطی کی ایک عمارت میں شفٹ ہوگیا تھا۔ ساڑھے چار سال ادارہ اس جگہ پر قائم رہا۔ ادارہ کے آغاز پر دارالفضل غربی میں 10 کنال اراضی مختص کی گئی تھی جس پر مستقبل میں ایک وسیع و عریض عمارت کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا۔
22دسمبر 2012ء کو دعا سے اس ادارے کی دارالعلوم سے دارالفضل غربی شفٹنگ کا آغاز کیا گیا۔ اس موقع پر دعامحترم صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان نے کروائی اور بعض ضروری ہدایات بھی دیں۔ اس حوالے سے ادارہ میں فی الحال 3 کلاس رومز، پریکٹیکل کے لیے شیڈ اور لڑکوں کی رہائش کے لیے ایک وسیع کمرہ تعمیر کیا گیا ہے۔ فروری 2013ء سے ادارہ کی تمام کلاسز اس عمارت میں ہو رہی ہیں۔
*اس ادارہ میں سالانہ اوسطاً 100سے 150طلباء ہنر حاصل کرکے عملی زندگی کا آغاز کرتے ہیں اور معاشرے کا مفید فرد بنتے ہیں ۔
*اس وقت ادارہ میں آٹو مکینک، وڈ ورک، آٹو الیکٹریشن، جنرل الیکٹریشن، ریفریجریشن ایئر کنڈیشننگ اور ویلڈنگ، سٹیل فیبر یکیشن، پلمبنگ، کمپیوٹر ہارڈ ویئر اینڈ انٹرنیٹ ورکنگ کے ہنر سکھائے جارہے ہیں ۔

دارالصناعۃ آٹو ورکشاپ

آٹو مکینک کے طلباء کی عملی تربیت کے لیے فائر سٹیشن کی بلڈنگ میں ایک آٹو ورکشاپ قائم کی گئی ہے جس میں تجربہ کار ماہرین کی نگرانی میں مختلف ادارہ جات کی گاڑیوں کے علاوہ پرائیویٹ گاڑیوں کی مرمت بھی کی جاتی ہے۔یہ ورکشاپ دراصل آٹو موبائل کے طلباء کو عملی کام سکھانے کے لیے بنائی گئی ہے ۔
یہ چند ادارہ جات اور امور کا تذکرہ ہے جو مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کے تحت خدمت خلق کی توفیق پارہے ہیں۔ ان کے علاوہ مجلس خدام الاحمدیہ کا خدمت خلق کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ جب بھی اور جہاں بھی کوئی خدمت خلق کا موقع پیدا ہو مجلس خدام الاحمدیہ خدمت خلق کے لیے وہاں فوری پہنچنا اپنا اوّلین فرض سمجھتی ہے۔