Islah-o-Irshaad

شعبہ اصلاح و ارشاد

اس شعبہ کا مقصد اور مطمح نظریہ ہے کہ دعوت الی اللہ کے فرض کو بطریق احسن ادا کیا جائے اور اس مہم کو تیزتر کیا جائے نیز ہرخادم کے اندر موجود صلاحیتوں کو اجاگر کرکے اسے بہترین داعی الی اللہ بنا یا جائے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ دعوت الی اللہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔

“مہینوں کا سفر دنوں میں او رصدیوں کا سفر سالوں میں نہ کریں تو ہم اپنا فرض منصبی نہیں اداکرسکتے “۔(خطبہ جمعہ 27جون1997ء)

 ہر احمدی میں صلاحیت موجود ہے کہ وہ ایک سے دو اور دو سے چار ہو۔ بیج خراب نہیں ہیں بیج صحیح استعمال نہیں ہورہے

ہر احمدی میں صلاحیت موجود ہے کہ وہ ایک سے دو اور دو سے چار ہو۔ بیج خراب نہیں ہیں بیج صحیح استعمال نہیں ہورہے۔
(خطبہ جمعہ15نومبر1991ء)
اس مقصدکے حصول کے لئے حسب ذیل انتظامی امور کو مدنظررکھیں۔

ٹارگٹ کی تقسیم

ضلعی ٹارگٹ پھل مجالس میں تقسیم کرکے اس کی نقل مرکزبھجوائی جائے اور ہر مجلس اپنا ٹارگٹ تمام خدام میں تقسیم کرے۔ اسی طرح نومبائع خدام کو بھی داعی الی اللہ بنایا جائے۔ نیز تمام خدام کو حصول پھل کے ٹارگٹ کے ساتھ ساتھ مستقل رابطوں،اور مختلف پروگراموں میں مہمان بلانے کیلئے بھی ٹارگٹ دیئے جائیں اور ان کی کارکردگی اور ٹارگٹس کا باقاعدہ ریکارڈرکھ کر جائزے کا ایک نظام جاری کیا جائے اور حسب ضرورت خدام کی راہنمائی کی جائے اور مسلسل توجہ دلائی جاتی رہے۔اور تدریجی لحاظ سے ہر ماہ کا ٹارگٹ اسی ماہ میں حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اور نمایاں کارکردگی دکھانے والوں کی مناسب رنگ میں حوصلہ افزائی کی جائے اور ممکن ہو تو انعامات وغیرہ بھی دیئے جائیں۔

اجلاس عاملہ بابت دعوت الی اللہ

ہر سطح کی مجلس عاملہ کا ماہانہ کم از کم ایک اجلاس دعوت الی اللہ کے متعلق ضرور منعقدکیا جائے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کا ارشاد ہے کہ
’’سردست میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ۔۔۔نئے سرے سے اس سارے کام کو ترتیب دینا چاہیے۔ مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ کافی نہیں ہے۔ بار بار ایسی میٹنگز بلانی پڑیں گی۔اگرہنگامی طو رپر چند دن کی رخصت لے کر بھی سب کو اکٹھا دن رات بیٹھنا پڑے توایسا کریں۔ لیکن مقصود یہ پیش نظر ہوگا کہ ہم نے اپنی گذشتہ حالت پر راضی نہیں رہنا کیونکہ بہت بڑا کام ہے جو ہمیں کرنا ہے۔ اور اگر ہم نہیں کریں گے تو ہم خوابوں میں بس رہے ہوں گے‘‘۔
(خطبہ جمعہ15نومبر1991ء)
مجلس عاملہ کو دعوت الی اللہ کے متعلق ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے اور فرائض کومتعین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔
’’مجلس عاملہ میں ان باتوں پر غور کریں۔ کبھی ایک پہلو پر غورکرکے اس کا نظام جاری کریں کبھی دوسرے پہلوپرکریں اور اس کا نظام جاری کریں۔ تھکیں اور ہاریں نہیں جب تک یہ نظام جاری نہیں ہوجاتا کہ سارے احمدی مرد ہوں یا عورت بڑے ہوں یا بچے وہ اپنے رنگ میں اس میں شامل نہ ہوں۔۔۔تو جماعت کے مختلف حصوں کی توفیق طے کرنا اور جن کی کم توفیق ہو ان کی توفیق بڑھانا یہ نظام جماعت کا کام ہے۔۔۔یہ نظام جماعت کا کام ہے کہ انفرادی طور پر ہر شخص کی راہنمائی کرے۔۔۔۔مجلس عاملہ کی عمومی صلاحیت کام آنی چاہیے۔۔۔جو باتیں کہہ رہاہوں یا کہوں گا ان سب کی ذمہ دار مجلس عاملہ ہوگی‘‘۔ (خطبہ جمعہ6جون1997ء)

اصلاح و ارشادکمیٹیز

علاقہ،ضلع اور مجلس کی سطح پر اصلاح و ارشاد کمیٹیاں بنا کر اراکین کمیٹی کے اسماء مرکز بھجوائے جائیں۔ بہتر ہوگا کہ کمیٹی کے اراکین ایسے عہدیداران عاملہ ہوں جو ہفتہ میں ایک باربآسانی ایک جگہ اکٹھے ہو کر غوروفکرکرسکیں۔ ان کمیٹیوں کے ہفتہ وار اجلاسات کو باقاعدہ او رموثربنایا جائے اوران کی کارروائی کا باقاعدہ ریکارڈ ایک رجسٹرپر رکھا جائے اور اس کے ذریعہ باقاعدہ محاسبے اور جائزہ کا نظام جاری کیاجائے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ان ہدایات کو پیش نظر رکھا جائے ۔ آپ فرماتے ہیں:
’’پس سب سے پہلا کام عہدیداران کا یہ ہے کہ اپنا اور اپنے کاموں کااور طریق کارکا محاسبہ کریں اور بڑی گہری اور تفصیلی نظر سے دیکھیں کہ اب تک وہ کیا کیا ذرائع استعمال کرچکے ہیں۔ اور کب سے وہ ذرائع استعمال کررہے ہیں۔ اور ان ذرائع کے نتیجہ میں کہیں کوئی پھل بھی لگاہے یا نہیں۔۔۔ پس ذرائع کی چھان بین،ان کی جانچ پڑتال ،پھران کی اپنی صلاحیتوں کا جائزہ اور یہ دیکھنا کہ ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق ہتھیار استعمال کررہا ہے کہ نہیں۔ یہ ایک اتنا وسیع مضمون ہے کہ اس پر اگر عہدیداران توجہ دیں تو ان کو معلوم ہوگا کہ یہ ایک دو دن کی بات نہیں۔ مسلسل توجہ اور محنت کا تقاضا کرنے والا معاملہ ہے‘‘۔
(خطبہ جمعہ 15نومبر1991ء)
پھر آپ جائزے کے نظام کے قیام کے سلسلہ میں فرماتے ہیں۔
’’ایک جائزے کا نظام ہے وہ فوری طور پر قائم ہونا چاہیے۔۔۔۔یہ جائزہ لینا چاہیے کہ دعوت الی اللہ کون کررہا ہے اور کیسے کررہا ہے؟اکثر بیچارے خواہش رکھتے ہیں لیکن طریقے کا پتہ نہیں۔ ان کے لئے طریقے طے کرنا،ان کو سمجھانا،اس کے مختلف ذرائع ہیں جنہیں جماعت کو اختیارکرنا ہوگا۔ ۔۔۔اگرآپ دعوت الی اللہ کا جائزہ لے رہے ہیں تو لٹریچرکا بھی جائزہ لیں۔ویڈیو،آڈیوکیسٹس کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ ان میں کس قسم کے جواب موجود ہیں؟لٹریچرمیں کیا ہے اور مخالف کی شرارتوں کا جواب کس کس لٹریچرمیں ہے؟۔۔۔کیا کیا چیزیں کہاں کہاں پڑی ہوئی ہیں؟۔۔۔اس کا باقاعدہ نظام لکھا ہوا ہو۔۔۔۔عمومی نظر رہنی چاہیے کہ جس وقت جو چیزچاہیے چٹکی بجاتے ہی حاضر ہو‘‘۔ (خطبہ جمعہ6جون1997ء)

سالانہ سکیم

مقامی حالات کے مطابق پورے سال کے لئے ایک معین سکیم تیارکرلی جائے اور اس کی روشنی میں ماہوار،ہفتہ وار او رروزانہ کام کرنے کی تعیین کرلی جائے اور تمام امورذمہ دار افراد پرپوری طرح واضح کئے جائیں او رپھر ان کے جائزے اور محاسبے کا عمل جاری رکھا جائے اور اجلاسات کمیٹی میں کامیابی یا اس کی طر ف پیش رفت کی رپورٹس پیش کی جایا کریں اور جہاں کمی نظر آئے اس کی نشاندہی کی جائے۔

کلاسزداعیان

کوشش کی جائے کہ ہر خادم میں علمی لحاظ سے اس بات کی صلاحیت ہو کہ وہ دوسروں سے دینی گفتگو کرسکے۔ اس سلسلہ میں مقامی اور ضلعی سطح پر کلاسزلگا کر انہیں اختلافی مسائل اور دعوت الی اللہ کے طریقے سکھائے جائیں۔ نیزکامیاب داعیان کے تجربات سے بھرپوراستفادہ کیا جائے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کا ارشادہے۔
’’محمدرسول اللہﷺ کے ہرخادم میں خاتمیت کی مہرپیدا ہونی چاہیے ہر وہ جو دوسرے میں تبدیلی کی اہلیت اپنے اندر رکھتا ہے وہ خاتمیت کی مہر اپنے اندر رکھتا ہے‘‘۔(خطبہ جمعہ20جون1997ء)
پھر آپ فرماتے ہیں:۔
’’تو اے محمدمصطفیﷺ کے غلامو!تم اپنے متعلق بھی سوچ لو کہ تمہارا کیا حال ہوگا اگر تم نے پیغام آگے نہ پہنچایاتو تم کس شمار میں ہوگے۔۔۔ ہر شخص کا فرض ہے کہ ضرور وہ دعوت الی اللہ کے کام میں حصہ ڈالے۔۔۔ پہلے پھل داردرختوں سے پوچھیں تو سہی کہ آپ کرتے کیا ہیں جو آپ کو یہ پھل لگتے ہیں۔۔۔ہر ایک کو علم ہوکہ میراآج کادن کل کے دن سے بہتر ہے۔ آج میں خداکے فضل سے پہلے سے بڑھ کر اپنے فرائض ادا کرنے کی طاقت رکھتا ہوں‘‘۔ (خطبہ جمعہ6جون1997ء)

داعیان خصوصی

کم از کم10%خدام کی خصوصی تربیت کی جائے اور انہیں روزانہ دعوت الی اللہ کے لئے وقت دینے کا پابندبنایا جائے اورانہیں حسب حالات و صلاحیت پانچ یا اس سے زائد پھل حاصل کرنے کا ٹارگٹ دیا جائے۔ایسے خدام کا ریکارڈمقامی اور ضلع کی سطح پر خاص طور پر بحفاظت رکھا جائے اور ان سے داعی خصوصی کا وعدہ فارم پرکرواکرمرکز ارسال فرمائیں تا مرکز بھی ان سے رابطہ کرسکے اور ان کی راہنمائی کرسکے۔ بعد ازاں ان سے ماہانہ رپورٹ کا مقررہ فارم پُرکروا کر مرکزبھجواتے رہیں۔

زیررابطہ افرادکے کوائف

خدام سے ان کے زیررابطہ افرادکے اسماء اور کوائف کی فہرستیں اکٹھی کرکے جائزہ لیتے رہنا اور توجہ دلانا بھی مفید ہوسکتاہے۔

عشرہ اصلاح و ارشادکا انعقاد

دعوت الی اللہ کی مہم کو تیزکرنے کے لئے وقتاً فوقتاً عشرہ معین کرکے کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کی جائے خصوصاً مرکزی عشرہ ہائے اصلاح و ارشاد کوبھرپوررنگ میں مناکران کی رپورٹس مرکزبھجوائی جائیں۔

ماہانہ رپورٹ شعبہ اصلاح وارشاد

اصلاح و ارشادکی ماہانہ رپورٹ مقررہ فارم پر اگلے ماہ کی پندرہ تاریخ سے قبل مرکز بھجوائی جائے۔اس کے تمام کالم پُر کئے جائیں اور پھل حاصل کرنے والے خدام کے اسماء مع تعداد پھل رپورٹ کے ساتھ منسلک کئے جائیں۔زائد تفصیل کے لئے الگ کاغذاستعمال کئے جائیں۔ ہر مجلس ماہانہ رپورٹ کی ایک کاپی مکرم قائد صاحب ضلع کو بھی مہیا کرے تو مفید ہوا۔

ترسیل پھل فارم و تصدیق پھل

حاصل ہونے والے تمام پھلوں کے اصل فارم کے اوپر پھل حاصل کرنے والے خادم کا نام لکھ کر بذریعہ قائد صاحب ضلع مکرم امیر صاحب ضلع کے پاس جمع کروائے جائیں اور مکرم امیر صاحب ضلع کی تصدیقی چٹھی مرکز بھجوائی جائے۔ اگر اپنے ضلع کے علاوہ کہیں سے پھل حاصل ہوں تو قریبی جماعت کے امیر صاحب،صدرصاحب یا مربی صاحب سے تصدیق کے بعد اپنے قائدصاحب ضلع کی وساطت سے اپنے امیر صاحب ضلع کے پاس اصل فارم جمع کروائے جائیں۔

دعوت الی اللہ کے ذرائع

1- ہر خادم اپنے معاشرتی تعلقات کی بناء پر زیادہ سے زیادہ افراد سے رابطہ کرے۔ ایسے افرادکی تعدادپھلوں کے ٹارگٹ سے کم از کم دس گناضرور ہونی چاہیے۔
2-حضورایدہ اللہ کے براہ راست خطبات جمعہ اورMTAکے دیگر پروگرام خصوصاً سوال و جواب کے پروگرام میں خدام کو ٹارگٹ دے کر مہمان بلانا دعوت الی اللہ کا مؤثرترین ذریعہ ہے۔
3- کوشش کی جائے کہ ہر ماہ کم از کم ایک جلسہ سیرۃ النبیؐ اور ایک مذاکرہ اجتماعی ضرور ہو۔ جس میں ہر خادم کم از کم ایک زیررابطہ فردکوضرورشامل کرے۔ علاوہ ازیں انفرادی مذاکرے ہفتہ واربلکہ حتی المقدورہر روزکروانے کی کوشش ہو۔
4- حسب حالات اور مقامی ضروریات کے مطابق دعوت الی اللہ کے دیگر ذرائع بھی بروئے کارلائے جائیں۔
5- ہر ہفتہ کم از کم ایک یوم رابطہ منایا جائے جس میں زیررابطہ افراد سے موثر رابطے کے ساتھ ساتھ نئے افراد اور نئے گاؤں سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی جائے اور رابطوں کو ان کے ٹارگٹ تک پہنچانے کی کوشش کی جائے۔
6- زیادہ سے زیادہ زرخیزمقامات تلاش کرکے بھرپور توجہ دی جائے۔
7- خدام سے وقف ایام کے وعدے لے کر ان کا باقاعدہ ریکارڈرکھا جائے اور ان کے وفود ترتیب دے کر مختلف مقامات پربھجوائے جائیں اور اس غرض کے لئے پہلے سے تمام پروگرام طے کئے جائیں اور وفود کی واپسی پر رپورٹس اکٹھی کرکے مرکزبھجوائی جائیں۔
8- حسب حالات مقامی اورضلع کی سطح پر کیسٹ، سی ڈیز کی لائبریریاں قائم کی جائیں۔ اور ان سے استفادہ کامناسب انتظام موجود رکھا جائے۔
9- تمام تدابیرکو اختیار کرنے کے ساتھ حکمت کے پہلو کو لازماً مدنظررکھا جائے۔
10- کامیاب دعوت الی اللہ اور بہتر نتائج کیلئے تدابیر کے ساتھ دعاؤں پر بہت زوردیا جائے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
آج کل دعاؤں پہ زور دیں،دعاؤں پہ زور دیں،دعاؤں پہ زور دیں۔بہت دعائیں کریں،بہت دعائیں کریں،بہت دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنی تائیدونصرت فرمائے اور احمدیت کا یہ قافلہ اپنی ترقیات کی طرف رواں دواں رہے۔آمین (الفضل انٹرنیشنل 25اپریل تا یکم مئی 2003ء)