Khidmat-e-Khalq

شعبہ خدمت خلق

خدام کو بلاامتیازمذہب و ملت او رقرآنی روح کے مطابق بنی نوع انسان کی بے لوث خدمت کے لئے متحرک رکھا جائے۔ اور ان میں دکھی انسانیت کی خدمت کا سچا جذبہ پیدا کیا جائے۔اسی جذبہ کے تحت اجتماعی پروگرام تشکیل دیئے جائیں۔ انفرادی طور پر بھی خدام حسب استطاعت مستحقین کی مدد کریں۔ نیز حضرت مصلح موعود(خدا تعالیٰ ان سے راضی ہو)کا یہ ارشاد پیش نظر رہنا ضروری ہے:۔
’’خدمت خلق سے خدمت احمدیت مراد نہیں خدا تعالیٰ جو کچھ چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ تم اس کے سارے بندوں کی خدمت کرو۔خواہ وہ کسی مذہب و ملت کے ہوں۔اگر کوئی تمہارا دشمن بھی ہے تو بھی اس کی مصیبت کے وقت میں مدد کرو‘‘۔
خدمت خلق کے بعض اہم کام مندرجہ ذیل ہیں۔
فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد
جن علاقوں میں علاج معالجہ کی سہولت نہیں وہاں مجالس کے زیرانتظام فری میڈیکل کیمپ منعقد کئے جائیں۔ دوران سال30یا30سے زائدکیمپس منعقد کرنے والی مجالس کو سند حسن کارکردگی دی جائے گی۔مجالس اس سلسلہ میں قیادت ضلع سے مدد وراہنمائی حاصل کرسکتی ہیں۔ ہر وہ ضلع،جس کی کم ازکم نصف مجالس میں سے ہر ایک نے سال بھر میں10یا10 سے زائد کیمپس منعقد کئے ہوں اسی طرح قیادت علاقہ جس کے ہر ضلع میں کم از کم 15کیمپس منعقد ہوں کو سال کے آخر میں سندخوشنودی دی جائے گی۔کیمپس باقاعدگی سے منعقد کرنے والی مجالس گاہے بگاہے کیمپ کے موقع پر حفظان صحت سے متعلق مختلف موضوعات پر حاضرین کی راہنمائی کا مناسب انتظام حکمت کے ساتھ کرنے کی کوشش فرماویں۔ مثلاً بذریعہ ہدایات،لیکچرز،چارٹس،پوسٹرزوغیرہ نیزکیمپس کے موقع پر دیگر اشیائے ضرورت مثلاً کپڑوں وغیرہ کے ذریعہ بھی ضرورتمندوں کی مدد کا انتظام کرنے کی کوشش کریں۔ عام میڈیکل کیمپس باقاعدگی کے ساتھ منعقد کرنے والی مجالس اگر ممکن ہو تو کبھی کبھی خاص میڈیکل کے پروگرام بھی تشکیل دے سکتی ہیں جن میں خصوصی طورپر کسی شعبہ کے ماہرڈاکٹرزبھی شریک ہوں۔ مثلاً آئی کیمپ وغیرہ۔
2۔بلڈگروپنگ و عطیہ خون
(الف) سوفیصدخدام کی بلڈگروپنگ کرائی جائے اس مقصد کے لئے ضلعی و علاقائی اجتماعات پر بھی انتظام کیا جاسکتا ہے۔
(ب) بلڈگروپنگ کا مکمل ریکارڈرکھا جائے اور اس میں خدام کے مندرجہ ذیل کوائف کا اندراج کیا جائے۔
نمبرشمار،نام خادم،ولدیت،تاریخ پیدائش،عمر،گھرکا مکمل پتہ مع فون نمبر، دفتر کا پتہ مع فون نمبر،خون کا گروپ ،پہلے کون کون سی تاریخ کو خون دے چکے ہیں، خون کا عطیہ دے سکتے ہیں یا نہیں۔
ان کوائف پر مشتمل ریکارڈضلع/علاقہ کی سطح پر ہر وقت مکمل رہنا چاہیے۔ نیز اس ریکارڈکی ایک نقل مرکزارسال کی جائے جو اضلاع دوران سال اپنے سو فیصد خدام کی بلڈگروپنگ کا مکمل ریکارڈمرکز کو ارسال کریں گے انہیں سند حسن کارکردگی کا مستحق قراردیا جائے گا۔
(ج) صحت مندخدام کو عطیہ خون دینے کی تحریک کی جاتی رہے۔
(د) نور آئی ڈونرز ایسوسی ایشن خدام الاحمدیہ پاکستان کے تحت کام کرنے والا ایک خدمت خلق کا ادارہ ہے۔ جس کے تحت نابینا افراد کو آنکھوں کے کارنیا کے عطیہ جات مہیا کیے جاتے ہیں۔نور آئی ڈونرایسوسی ایشن کے حوالے سے قائد ضلع ؍ علاقہ اپنے ضلع؍ علاقہ میں موجود برانچ کا سرپرست ہوتا ہے اور ہر سال ایسوسی ایشن کے متفرق امور کی انجام دہی کیلئے عاملہ تشکیل دیتا ہے۔ نور آئی ڈونرز ایسوسی ایشن کے صدر کو صدر مجلس نامزد کرتا ہے۔ ایسوسی ایشن کا مرکزی دفتر ربوہ میں ’’ادارہ نورالعین‘‘ میں واقع ہے۔ صدر نور آئی ڈونرز ایسوسی ایشن اور اس کی عاملہ تمام بیرونی برانچز سے رابطہ رکھتے ہیں اور ان کو فعال بنانے کیلئے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ نور آئی ڈونرز ایسوسی ایشن کی برانچز کے بنیادی کام مندرجہ ذیل ہیں۔
* زیادہ سے زیادہ احباب جماعت کو تحریک عطیہ چشم کرنا۔ (اس مقصد کے حصول کیلئے سیمیناررز کا انعقاد، معلوماتی کتابچہ و پمفلٹ کی اشاعت کرتے رہنا چاہئے)
* تمام آئی ڈونرز کا ریکارڈ رکھنا اور مرکز سے آئی ڈونر کارڈ موصول ہونے پر انہیں بروقت آئی ڈونرز تک پہنچانا۔
* موزوں نابینا افراد کے کوائف کا حصول اور انہیں مرکز بھجوانا تا کہ ان مریضوں کا باری آنے پر آپریشن کیا جا سکے۔
* آنکھوں کے عطیہ کے حصول کیلئے احمدی آئی سپیشلسٹ کے زیر نگرانی Cornea Collection Team بنانا جو وفات یافتہ آئی ڈونر کی آنکھوں کا عطیہ حاصل کرنے کیلئے ہمہ وقت مع ضروری ساز و سامان تیار رہے۔
* آئی ڈونرز (Eye Donor) کی وفات کی اطلاع ملنے پر چھ گھنٹے کے اندر اندر عطیہ چشم حاصل کر کے اُسے محفوظ کرنا اور پھر بحفاظت مرکز بھجوانا۔
3۔گرم کپڑوں کی فراہمی
مقامی طورپرگھروں سے رابطہ کرکے نئے اورپرانے کپڑے اکٹھے کئے جائیں اور پھر اپنے اپنے علاقہ میں ضرورت مند افراد کو حکمت کے ساتھ مہیاکئے جائیں۔
4۔ تعلیمی سال کے اختتام اور نئے سال کے آغازسے پہلے ضرورت مند طلباء کو درسی کتب مہیا کرنے کی غرض سے ہر بڑی مجلس اپنے ہاں بک بنک قائم کرے۔ پرانی درسی کتب جمع کرکے یا نئی کتب/کاپیاں خریدکر ضرورت مند طلباء کو مہیا کی جائیں۔ اورکام مکمل کرکے اس کی تفصیلی معین رپورٹ علیحدہ ارسال کریں۔
5۔ خدام کو ابتدائی طبی امدادکی تربیت دی جائے اس سلسلے میں قیادت، علاقہ یا ضلع کے تعاون سے ڈاکٹرزیا دیگر ماہرین کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہیں۔
6۔ سیلاب ،بارشوں اور دیگر ناگہانی آفات سے متاثرہ مقامات کے لوگوں کی معین لائحہ عمل تیار کرکے مدد کی جائے۔
7۔ بے روزگار خدام کی روزگارکے سلسلے میں بھرپورمدد اور رہنمائی کی جائے۔ اس سلسلے میں بااثرافرادسے بھی تعاون کی درخواست کی جائے۔
8۔ خدمت کے وسیع ترتناظر میں ضروری ہے کہ خدمت خلق کے متفرق کاموں مثلاً بیمار اور معذور افراد کی مدد، سودا سلف لا کر دینا، بیماروں کی عیادت، تجہیز و تکفین اور شادی بیاہ کے موقع پرمنظم رنگ میں اپنی خدمات پیش کی جائیں۔ اپنے اپنے ہاں ضرورتمند گھرانوں پر خاموشی سے نظر رکھیں اور اپنے وسائل کے مطابق حکمت سے ان کی ہر ممکن مدد کرنے کی پوری کوشش فرماویں۔ ضرورتمند یتامیٰ کے کوائف جو مرکز میں تاحال نہ پہنچے ہوں بصیغہ راز اکٹھے کر کے جماعتی توسط سے مرکز میں کفالت یکصد یتامیٰ کمیٹی کو بھجوائے جائیں۔