Maal

شعبہ مال

(الف) شرح چندہ جات
چندہ مجلس

 1- برسر روز گار خدام سے ان کی ماہوار آمد پر ایک پیسہ فی روپیہ ماہوار یعنی ماہوار آمد کا 1/100 (مگر کسی بے روز گار خادم کیلئے کسی صورت میں چندہ مجلس کے بجٹ کی شرح دو روپیہ ماہوار سے کم نہیں ہوگی) تمام طلباء سے بھی دو روپیہ ماہوار چندہ مجلس وصول کیا جائے۔

چندہ سالانہ اجتماع

2-  ہر خادم کم از کم پانچ روپیہ سالانہ ادا کرے لیکن ایک سو سے زائد آمد رکھنے والے خدام اپنی ایک ماہ کی آمد کا اڑھائی روپیہ فی صد کے حساب سے سالانہ چندہ اجتماع ادا کریں گے۔

چندہ اطفال

3- بجٹ اطفال کے لئے الگ تشخیص بجٹ کے فارم ہیں۔ ان پر خدام کے ساتھ ہی اطفال کا بجٹ بنا کر بھجوایا جائے ہر طفل کے لئے چندہ مجلس سالانہ 40/- روپے ہے اور چندہ اجتماع اطفال ہر طفل کا 10/- روپے سالانہ ہے۔

(ب) تشخیص بجٹ

نئے سال کے فارم تشخیص بجٹ مکمل ہو کر 31؍ اگست تک مرکز میں پہنچ جانے چاہئیں۔ جن مجالس نے بجٹ تشخیص کر کے ابھی تک نہیں بھجوائے وہ اب اس طرف فوری توجہ کریں۔ بجٹ تیار کرتے وقت اس امر کو ملحوظ رکھیں۔
(i) ہر خادم سے ذاتی رابطہ کیا جائے اور اس کی صحیح آمد کے مطابق بجٹ بنایا جائے۔
(ii) کوئی خادم بجٹ میں شامل ہونے سے رہ نہ جائے۔
(iii) جن خدام کوگزشتہ سال کے بجٹ میں شامل کیا گیا تھا مگر موجودہ بجٹ میں ان کا نام درج نہیں ان کو شامل نہ کئے جانے کی وضاحت تحریراً آنی چاہئے۔
(iv) جن خدام کی آمد گزشتہ سال کی نسبت کم ہے اس کی وجوہات بھی لکھی جائیں۔
(v) نومبائعین کو مالی قربانی میں ضرور شامل کریں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل جماعت پر روز بروز بڑھ رہے ہیں ان کی پوری عکاسی بجٹ میں اضافہ کی صورت میں ہونی چاہئے۔ چنانچہ دوران سال نئے شامل ہونے والے اراکین کا بجٹ بنا کر بجٹ کے ساتھ مرکز بھجوائیں۔ نومبائع خادم و طفل کے سامنے واضح طور پر لکھیں کہ یہ نومبائع ہیں۔
(vi) ہر نئے سال کا بجٹ پہلے سال سے زیادہ ہونا چاہئے۔ یہی مومن کی شان ہے۔

(ج) وصولی، ریکارڈ اور ترسیل چندہ جات

1-  اس امر کا خصوصی اہتمام کیا جائے کہ ہر خادم و طفل سے تدریجی بجٹ کے مطابق ہر ماہ چندہ کی وصولی کی جائے۔ خدام کو عادت ڈالیں کہ وہ ہر ماہ چندہ خود ادا کرنے کی کوشش کریں۔
2-  وصولی کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوں اور کام میں برکت کیلئے خوب دعا کریں۔
3-  مجلس خدام الاحمدیہ کی رسید بک پر صرف مجلس کے منظور شدہ چندے وصول کئے جائیں۔ مرکزی جماعت کے چندہ جات یا وقف جدید، تحریک جدید وغیرہ مجلس کی رسید بک پر وصول نہ کئے جائیں۔ یہ جماعتی رسید بک پر وصول کئے جاتے ہیں۔
4-  رسید کاٹتے ہوئے بال پوائنٹ اور کاربن ضرور استعمال کریں۔
5-  کسی رسید پر Over Writing نہ کی جائے یعنی کچھ کاٹ کر دوبارہ نہ لکھا جائے۔
6-  اگر کوئی رسید غلط کٹ جائے تو اصل اور اس کی کاپی دونوں رسید بک میں اپنی جگہ پر موجود رہیں اور ان پر Cancelled یا منسوخ شدہ لکھ کر دستخط کئے جائیں۔
7-  بلاتفصیل رقوم وصول نہ کی جائیں۔
8-  چندہ جات کی رسید جس تفصیل کے ساتھ کاٹی جائے اسی تفصیل کے ساتھ مرکز کے تجویز کردہ روزنامچہ پر اور کھاتہ فارموں پر اس کا اندراج اور میزان کیا جائے اور یہ اندراجات روزنامچہ اور کھاتہ پر مکمل رکھے جائیں۔
9-  ہر مجلس کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ بجٹ کے مطابق وصولی سوفیصد کرے۔ کسی خادم کو نادہندہ یا بقایا دار نہیں ہونا چاہئے۔ ناظم مال کو چاہئے کہ جن خدام نے تین ماہ کے چندہ جات مجلس ادا نہ کئے ہوں ان کے نام قائد صاحب مجلس کو پیش کرے اور کمزور خدام کی مقامی سطح پر اصلاح کی بھرپور کوشش کی جائے۔
10-  ہر مجلس چندہ مجلس کے بجٹ کا 78% حصہ خدام الاحمدیہ پاکستان کو بھجوائے۔ بقیہ 22% مجلس اپنی مقامی ضروریات پر خرچ کر سکتی ہے جس کا حساب رکھنا ضروری ہے۔ دیگر چندہ جات پورے کے پورے خدام الاحمدیہ پاکستان کو بھجوائے جائیں۔ وصول شدہ چندہ جات ہر ماہ کی بیس تاریخ تک مرکز بھجوانے ضروری ہیں۔

(ر): متفرق امور

1- کسی قسم کی رقم بغیر رسید کے وصول نہیں کی جا سکتی۔
2- چندہ مجلس اور سالانہ اجتماع کے علاوہ کوئی چندہ مرکز کی منظوری کے بغیر وصول نہ کیا جائے۔
3- عطیہ جات مرکز سے تحریری منظوری لینے کے بعد مجلس خدام الاحمدیہ کی رسید بک پر ہی وصول کئے جائیں اور ان کی آمد و خرچ کا حساب محفوظ رکھا جائے اور مرکز بھی بھجوایا جائے۔
4- تمام مقامی اخراجات کا مکمل حساب رکھا جائے۔ ناظم مال اور قائد مجلس کے دستخط کے ساتھ تمام رسیدات ریکارڈ میں محفوظ رکھیں اور محاسب مقامی سے ہر ماہ جملہ آمد و خرچ کی پڑتال کروائی جائے۔
5- دوران سال فاضلہ وصولی (یعنی بجٹ سے زائد رقوم) بھی مرکز بھجوائی جائیں اور اسی سال میں اس کا شمار کیا جائے۔
6- ختم شدہ رسید بکس محاسب ضلع یا مرکزی مراقب کی پڑتال کے بعد واپس مرکز بھجوائی جائیں۔