Sehet-e-Jismaani

شعبہ صحت جسمانی

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’مغربی اقوام۔۔۔۔۔۔ کو ہم شکست نہیں دے سکتے جب تک صحت کے میدان میں ہم انہیں شکست نہ دیں۔ یعنی صحت کے لحاظ سے جسمانی صحت کے لحاظ سے ہم ان سے آگے نکلنے والے ہوں۔ زیادہ جانفشانی سے کام کرنے والے ہوں‘‘۔ (الفضل جلسہ سالانہ نمبر1981ء)
اس امر کی خصوصی نگرانی کی جائے کہ ہر خادم روزانہ سیر یا کوئی کھیل یا ورزش کا عادی ہو جائے۔ ایسے خدام کو خاص طور پر کھیلوں کیلئے آمادہ کریں جو قویٰ کے لحاظ سے اہلیت رکھتے ہوں مگر محض سستی یا عدم علم کی وجہ سے ضائع ہو رہے ہوں اوران کی تربیت کا انتظام کریں۔
حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں۔
’’کھیلنا بھی ایک کام ہے جس طرح کھانا اور سونا بھی کام ہیں‘‘۔
اس مقصد کیلئے بڑی مجالس حسبِ حالات اپنے ہاں اجتماعی کھیلوں میں سے کسی ایک کھیل کا باقاعدہ انتظام کریں۔ مجلس، ضلع اور علاقہ کی سطح پر سالانہ ورزشی مقابلہ جات کروائے جائیں۔ بہتر ہوگا کہ یہ مقابلے مرکزی سالانہ سپورٹس مقابلہ جات سے پہلے کروا لئے جائیں تا علاقہ کے بہترین کھلاڑیوں کو سپورٹس مقابلہ جات میں نمائندگی کا موقع مل سکے۔
کوشش کی جائے کہ قریبی مجالس یا اضلاع کی ٹیموں سے بھی دوستانہ مقابلے وقتاً فوقتاً منعقد ہوں۔ کھیل کے دوران سچائی، اطاعت اور اخلاق کا دامن نہ چھوڑا جائے۔ خدام میں وسعت حوصلہ پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ کھلاڑیوں میں ہر مقابلہ سے پہلے دعا کرنے کی عادت ڈالیں۔

سالانہ مقابلہ جات

مقابلہ جات میں ہر علاقہ کے نمائندہ خدام شریک ہوتے ہیں جملہ قائدین اپنی اپنی مجالس کے اچھے کھلاڑیوں سے قائد صاحب علاقہ کو آگاہ فرمائیں۔
حضرت مصلح موعود کا ارشاد ہے کہ نوجوانوں میں ایسی کھیلیں رائج کی جائیں جو ان کی آئندہ زندگی میں کام آئیں۔ چنانچہ خدام میں سائیکل سواری خاص طور پر رائج کی جائے۔ دوران سال ہر مجلس کم از کم ایک سائیکل سفر ضرور کرے۔ جس میں کم از کم فاصلہ 25 کلومیٹر ہو اور مجلس کے 25% خدام ضرور شامل ہوں۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ خدام کو تیراکی کی طرف بھی متوجہ کریں۔
پکنک اور کلواجمیعا کے ذریعہ صحت مند تفریحات کے منظم مواقع فراہم کئے جائیں۔ مرکزی ہائیکنگ کلب کے زیر اہتمام سال بھر خصوصاً ماہ جون تا ماہ ستمبر میں چھوٹے چھوٹے گروپس ہائیکنگ کے لئے جاتے ہیں۔ شوقین خدام کو اس کے لئے تیار کر کے قبل از وقت مرکزی ہائیکنگ کلب آف پاکستان ایوان محمود ربوہ سے رابطہ قائم کیا جائے۔
سال میں کم از کم ایک مرتبہ تمام خدام کے طبی معائنہ کا بھی انتظام کروایا جائے۔ حفظان صحت کے مختلف موضوعات مثلاً جسمانی صفائی، متوازن غذا کا استعمال، سگریٹ نوشی کے نقصانات، ورزش کے فوائد وغیرہ پر تقاریر کروائی جائیں اور مضامین لکھوا کر بغرض اشاعت مرکز ارسال فرمائیں۔