Tarbiyyat

شعبہ تربیت

اس شعبہ کا مقصد یہ ہے کہ احمدی نوجوانوں کی تربیت اس رنگ میں کی جائے کہ وہ احکام قرآنی او راعلیٰ اخلاق و آداب کی پابندی کریں۔خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق ،توحیدباری تعالیٰ کے لئے غیرت،خداتعالیٰ سے وفا اور اس پر توکل ان میں پیدا ہو۔وہ آنحضرتﷺ سے عشق اورمخلوق خدا کی ہمدردی کے جذبہ سے سرشار ہوں اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی بعثت کی حقیقی غرض ان کے ذریعہ پوری ہو۔ اس مقصدکے حصول کے لئے مندرجہ ذیل ذرائع اختیارکئے جاسکتے ہیں۔
1۔ تربیتی تقاریر
2۔ تربیتی مضامین
3۔ دورہ جات
4۔ خطوط
5۔ سرکلرز
6۔ تربیتی عبارات پر مشتمل پمفلٹ
7۔ انفرادی ملاقاتیں
8۔ تربیتی کلاسز
9۔ خدام کیلئے علماء اور بزرگان کی صحبت کے مواقع
10۔ نظارت اصلاح و ارشاد،انصار اللہ،لجنہ اماء اللہ وغیرہ سے رابطہ و تعاون
11۔ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی کتب،سلسلہ کے لٹریچر،اخبارات ورسائل کا مطالعہ
12۔ معاشرہ کے غیراسلامی رجحانات پرنظررکھنا تا بروقت ان سے بچاؤ کی تدابیر اختیارکی جاسکیں۔

تعلیمی وتربیتی کلاسیں

بڑی بڑی مجالس اپنے ہاں تعلیمی وتربیتی کلاسز اور اجتماعات کا ضرورانتظام کریں۔اسی طرح ضلع اور حلقہ کی سطح پر بھی کلاسزضرورمنعقد کی جائیں۔ان کلاسوں کے انعقاد سے قبل تعلیمی نصاب مقرر کرکے باقاعدہ پڑھانے کا انتظام کیا جائے۔ ہر مجلس کیلئے ضروری ہے کہ ہر سہ ماہی میں کم از کم ایک مقامی تربیتی کلاس منعقد کرے۔

مرکزی تعلیمی وتربیتی کلاس

ہر سال مرکزی تعلیمی وتربیتی کلاس میٹرک کے امتحان کے بعدمنعقد ہوتی ہے تاکہ میٹرک کا امتحان دینے والے طلباء اس کلاس میں شامل ہوسکیں۔قائدین اس کلاس کی اہمیت خدام کو ذہن نشین کروائیں۔ اور انہیں تحریک کریں کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں کلاس میں شرکت کریں۔

خصوصی پروگرام

شعبہ تربیت ہر لحاظ سے تمام شعبوں کی جان ہے چونکہ مذہب کے قیام کا مقصد ہی انسان کی اصلاح اور اللہ تعالیٰ سے اس کا زندہ تعلق قائم کرنا ہے۔ اس شعبہ کے تحت ایک خصوصی پروگرام درج کیا جارہا ہے۔ عہدیداران کو اس کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
1۔ مندرجہ ذیل نیکیوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔
(i) توحید باری تعالیٰ کے لئے غیرت او رخدا تعالیٰ سے وفا۔
(ii) خاتم النبیین حضرت محمدرسول اللہ ﷺ کے مقام کی عظمت کا احساس
(iii) نمازباجماعت کا قیام
(iv) یہ روح پیدا کی جائے کہ خدام محض فرض کی ادائیگی پراکتفانہ کریں بلکہ نیکی کے ہر میدان میں نوافل کے ذریعہ رضائے باری تعالیٰ کے حصول کی کوشش کرتے رہیں۔
(v) اخوت و ہمدردی مخلوق
(vi) ہر نیکی کو سنوارکرادا کرنا اور دلی بشاشت کو قائم رکھنا۔
(vii) دیانت،امانت،راستبازی ،صداقت،اطاعت،ایفائے عہد،ایثار اور عفو جیسے اخلاق فاضلہ پیدا کرنا۔
(viii) مطالعہ کتب حضرت مسیح موعودعلیہ السلام
2۔ نیزمندرجہ ذیل خامیوں کے سدباب کیلئے مجالس کوشش کرتی رہیں۔ جھوٹ، غیبت، بدظنی، ظلم، سستی، لغو کاموں میں ضیاعِ وقت، غلط بیانی، بددیانتی، بدمعاملگی، بے پردگی، تمباکو نوشی، لباس وطرزرہائش میں اسراف،ایسے باہمی اختلاف جن کا اثر جماعت پرپڑتا ہو۔
3۔ مجالس اپنے عمل کے ذریعہ سے غیر از جماعت احباب کو اپنا عمدہ نمونہ پیش کریں۔
4۔ قائدین مجالس سائقین کو اپنے حزب کے اراکین کی انفرادی تربیت کاذمہ دارقراردیں۔جو تربیتی ہدایات جاری کی جائیں انہیں تمام خدام تک پہنچانے اور ان کو رائج کرنے کی ذمہ داری سائقین پر ہے۔
5۔ نمازباجماعت کے قیام کی طرف خصوصی توجہ دی جائے نیز اس سلسلہ میں عہدیداران اپنا عملی نمونہ پیش کریں ہر ماہ بعض قابل اصلاح خدام چن کر انہیں نمازباجماعت کا عادی بنانے کے لئے خاص توجہ دی جائے یہاں تک کہ سال کے اختتام سے قبل ایک خادم بھی ایسا نہ رہے جو نمازباجماعت کا عادی نہ بن چکا ہو۔ نیزسائقین کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ اپنے حزب کے اراکین کو نماز کے لئے ساتھ لے کر آیا کریں۔ ماہانہ رپورٹوں میں بھی اس کوشش کے نتائج کا معین اعدادوشمارکے ساتھ ذکر آنا چاہیے۔ حضورانورکے خطبات کی روشنی میں نماز کا معیار بلند کرنے پر زور دیا جائے۔مجلس شوریٰ خدام الاحمدیہ 2003ء کی منظور شدہ شفارشات دربارہ قیام نماز باجماعت کو مدنظر رکھیں نیزقرآنی اور مسنون روزمرہ دعائیں یاد کروائی جائیں۔ خدام کو روزانہ باقاعدگی سے تلاوت قرآن کریم کرنے کی طرف متوجہ کیا جائے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نماز باجماعت کی ادائیگی کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’۔۔۔ہر احمدی خادم اور طفل اس طرح پانچ وقت کا نمازی بن جائے کہ آپ کے ماحول کی ہر احمدی (بیت الذکر) نمازیوں سے رونق پکڑنے لگے۔ نماز آپ کی روح کی غذا بن جائے۔ جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اس طرح آپ کی حالت نماز کے بغیر ہو۔ یاد رکھیں کہ نماز کے بغیر آپ کی زندگی بے لطف اور بے حقیقت رہے گی‘‘۔
(مشعل راہ جلد پنجم صفحہ 165-164)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:۔
’’میں چاہتا ہوں کہ اس صدی سے پہلے پہلے ہر گھر نمازیوں سے بھر جائے اور ہر گھر میں روزانہ تلاوت قرآن کریم ہو۔ کوئی بچہ نہ ہو جسے تلاوت کی عادت نہ ہو۔ اس کو کہیں تم ناشتہ چھوڑدیا کرو مگر سکول سے پہلے تلاوت ضرور کرنی ہے اور تلاوت کے وقت کچھ ترجمہ ضرور پڑھو خالی تلاوت نہ کرو‘‘۔
(خطبہ جمعہ مورخہ7جولائی1997ء)
6۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی جاری فرمودہ تحریک حفظ قرآن کی طرف مجالس کو پوری توجہ دینی چاہیے اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں ایسے خدام تیار کئے جائیں جو ایک ایک پارہ حفظ کریں۔
ایسے خدام جو ایک پارہ حفظ کررہے ہوں ان کا ریکارڈرکھا جائے جو خدام ایک پارہ حفظ کریں ان کے نام و پتہ سے مرکزکو اطلاع دیں ایسے خدام کے اسماء بغرض دعا حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے۔
7۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے جن پانچ بنیادی اخلاق کی طرف توجہ دلائی تھی۔ ان اخلاق کو رواج دینے کے لئے خدام سے عہد لیا جائے۔ وہ پانچ بنیادی اخلاق یہ ہیں۔-1سچائی۔-2نرم اور پاکیزہ زبان کا استعمال۔-3 ہمدردی مخلوق، دوسروں کی تکلیف کا احساس اور اسے دور کرنا۔ -4وسعت حوصلہ۔-5مضبوط عزم اور ہمت۔ ان موضوعات پر وقتاً فوقتاً گفتگو/تقاریر بھی ہوں۔
8۔ حضو رانور کے خطبات براہِ راست سنوانے کا خاص طور پراہتمام کیا جائے اور ڈش مراکز پر حاضری کا ریکارڈ رکھا جائے۔
9۔ خدام کو نظام وصیت سے آگاہ کیا جائے اور زیادہ سے زیادہ خدام کو اس بابرکت تحریک میں شامل کیا جائے۔
10۔ وقف عارضی کی بابرکت سکیم میں زیادہ سے زیادہ خدام کو شامل کریں۔ اس سال کے آغاز میں ہی وقف عارضی کے فارم پر کرواکے مرکزی دفتر وقف عارضی میں بھجوائیں۔ اس میں وقف عارضی کا وقت فارم بھجوانے کے ایک یا دو ماہ بعد رکھیں تا کہ مرکزسے منظوری کی اطلاع متعلقہ خادم کو بروقت دی جاسکے۔
وقف عارضی کے اختتام پر اس کی رپورٹ مرکز بھجوائیں۔
11۔ خدام کو باربار توجہ دلائی جاتی رہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں باقاعدگی سے دعائیہ خطوط لکھتے رہیں۔
-12 حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی درج ذیل دو تحریرات پر زیادہ سے زیادہ خدام سے تعمیل کروائیں۔
نفلی روزہ رکھنے کی تحریک: حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ فرمودہ 7؍ اکتوبر 2011ء میں پاکستانی احمدیوں کو ظالموں اور ظلموں سے نجات حاصل کرنے کے لئے خصوصی دعائیں کرنے اور ہر ہفتہ ایک نفلی روزہ رکھنے کی تحریک فرمائی۔
دو نوافل کی تحریک: حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ فرمودہ 3؍ دسمبر 2010ء میں تحریک فرمائی کہ دنیا کا ہر احمدی جماعتی ترقی اور ان احمدیوں کے لیے جو احمدیت کی وجہ سے کسی بھی قسم کی تکلیف میں مبتلاء ہیں کم از کم دو نفل روزانہ ادا کرکے خصوصی دعائیں کرے۔