Umoor-e-Talaba

شعبہ امور طلباء

1-  اس شعبہ کا مقصد احمدی طلباء (خاص طور پر کالجوں اور یونیورسٹیوں کے احمدی طلباء) کے اخلاقی اور دینی معیار کو برقرار رکھنا ہے تا کہ ان کو موجودہ مادی فضا کے بداثرات سے بچا کر ان کی روح کو زندہ رکھا جا سکے۔ طلباء کو یہ ذہن نشین کروایا جائے کہ ملک، قوم اور جماعت کے مستقبل کا تعلق ان کے ساتھ وابستہ ہے۔ جہاں ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی دنیوی تعلیم کو مکمل کریں وہاں ان کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے آپ کو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں تا کہ ان کے دل و دماغ دور حاضر کے غلط مادی رحجانات کے اثر سے محفوظ رہیں۔ اس غرض کیلئے دینی کتب کی طرف خاص توجہ دی جائے اور بزرگان سلسلہ سے ملاقات کے مواقع منظم طریق پر مہیا کئے جائیں۔ نیز کوشش کی جائے کہ طلبہ کو ٹوپی (خواہ کسی بھی طرز کی ہو) پہننے کی عادت ہو جائے۔
2-  حضرت خلیفۃ المسیح الخا مس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے احمدی طلباء کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایاکہ کوئی بچہ ایسا نہ ہو جو ایف اے(F.A) ایف ایس سی(FSC) سے پہلے تعلیم چھوڑے۔ اس لئے ہر مجلس کو چاہئے کہ حضور انور کے اس ارشاد پر عمل کرائے۔
3-  ایسے خدام جو تعلیم چھوڑ چکے ہوں انہیں اوپن یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائیں۔ نیز ٹیکنیکل ایجوکیشن کی طرف بھی ان کی راہنمائی کی جائے۔
4-  ہر مجلس اس شعبہ کے زیر اہتمام تعلیم کی اہمیت و افادیت کے موضوعات پر اجلاسات منعقد کرائے۔ جن میں والدین کو بھی مدعو کیا جائے اور ان کو توجہ دلائی جائے کہ اپنے بچوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔ نیز گاہے بگاہے وہ تعلیمی اداروں میں جا کر اپنے بچوں کی حاضریاں اور تعلیمی حالت سے آگاہی حاصل کرتے رہیں۔
5-  ضلعی سطح پر سال میں ایک مرتبہ تعلیم کی ضرورت و اہمیت اور تعلیم کے مختلف شعبہ جات کے تعارف پرمبنی موضوعات پر ایک سیمینار منعقد کیا جائے جس میں ماہرین تعلیم سے استفادہ کیا جائے۔
6-  بڑی مجالس کو چاہئے کہ وہ اپنے ہاں ہر سال تعطیلات میں اور امتحانات سے قبل فری کوچنگ کلاسز کا انتظام کریں۔ یہ کلاسز خاص طور پرمڈل، میٹرک، انٹر اور ڈگری کلاسز کیلئے ہونی چاہئیں۔ نیز جہاں ممکن ہو وہاں ٹیکنیکل ایجوکیشن پر مبنی کلاسز کا بھی مناسب وقت پر اجراء کیا جائے۔ اس کے علاوہ دوران سال کمزور طلباء کی کوچنگ کا بھی انتظام کیا جائے۔
7-  مختلف تعلیمی اداروں میں داخلہ کیلئے طلباء کی مناسب راہنمائی کی جائے اور اس سلسلہ میں مسلسل نظارت تعلیم صدر انجمن احمدیہ ربوہ سے بھی رابطہ رکھا جائے۔
8-  تمام طلباء اپنے ہر امتحان کا نتیجہ نکلنے پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دعائیہ خطوط لکھیں نیز اس کی رپورٹ مرکز کو بھجوائیں۔ قائدین اجلاسات میں خدام و اطفال کو اس امر کی تلقین کرتے رہیں۔
9-  تعلیمی ادارہ جات میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے خدام و اطفال کی حسبِ حالات انعامات وغیرہ کے ذریعہ حوصلہ افزائی کریں اور ان کے کوائف خالد اور تشحیذالاذہان میں اشاعت کیلئے بھی مرکز ارسال فرمائیں تا کہ دوسرے طلبہ بھی ان کے نقوش پر آگے بڑھیں۔